.

یہودی آبادکاروں پر چاقو سےحملے کی فوٹیج جاری

سیکیورٹی گارڈ نے حملہ آور فلسطینی کو بھی گولی مار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں پچھلے چند ہفتوں سے یہودی آباد کاروں پر فلسطینی نوجوانوں کے چاقوئوں اور تیز دھار آلات سے حملوں کے پے درپے واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ چاقوئوں سے یہودیوں پر حملہ کرنے والے بعض افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے تاہم کچھ شہری جوابی فائرنگ کے نتیجے میں شہید یا زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے گذشتہ بدھ کے روز مشرقی بیت المقدس کی ایک سپر مارکیٹ میں چاقو سے کیے گئے حملے کی ایک ویڈیو فوٹیج حاصل کی ہے۔ خفیہ کیمرے کی مدد سے تیار کی گئی یہ فوٹیج اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ہے جسے ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ’’یو ٹیوب‘‘ پر بھی پوسٹ کیا گیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے یہ مختصر فوٹیج یو ٹیوب ہی سے حاصل کی ہے۔

ویڈیو فوٹیج کےپہلے حصے میں مشرقی بیت المقدس میں’’معالیہ ادومیم‘‘ کالونی کی ایک سپر مارکیٹ میں ایک شراب کی دکان میں فلسطینی لڑکے کو دو یہودی آباد کاروں کو چھری سے زخمی کرتے دکھایا گیا ہے جبکہ دوسرے حصے میں ایک سیکیورٹی گارڈ کو خنجر بردار فلسطینی لڑکے پر فائرنگ کرکے اسے زخمی کرتے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو فوٹیج میں صہیونی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سمری کا ایک بیان بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور فلسطینی کی عمر 16 سال اور اس کا تعلق بیت المقدس کے العیزریہ کے علاقے سے ہے۔ اس نے دو اسرائیلی گاہکوں کا تعاقب کیا اور انہیں خنجر کے پے در پے وار کرکے شدید زخمی کر دیا۔ زخمی یہودیوں میں سے ایک کی عمر پچاس برس سے زیادہ ہے۔

یہودی آباد کاروں پر چھری سے حملہ کرنے والے فلسطینی لڑکے کو ایک اسرائیلی سیکیورٹی گارڈ نے دیکھ لیا۔ سرخ شرٹ میں ملبوس اس سیکیورٹی گارڈ کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے حفاظتی دستے میں بھی شامل رہا ہے۔ اس نے فورا اپنے بیگ سے پستول نکالا، اسے لوڈ کیا اور بھاگ کر فلسطینی لڑکے کے پائوں میں گولیاں مار دیں۔ تاہم اس کےساتھ ہی ویڈیو فوٹیج ختم ہو جاتی ہے۔

اسرائیلی پولیس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمی دونوں یہودی آباد کاروں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے تاہم وہ ابھی تک اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ البتہ یہودی سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے زخمی فلسطینی لڑکے کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اسرائیل کے عبرانی ریڈیو ’’ریچٹ بیٹ‘‘ کے مطابق زخمی فلسطینی لڑکا بھی اب ٹھیک ہے اور اسے تفتیش کے لیے داخلی سلامتی کے ادارے ’شاباک‘ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فلسطینی کے ساتھ دو اور افراد بھی اس سپر اسٹور میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی شناخت کے بعد انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسرائیلی اخبارات کے مطابق فلسطینی خنجر بردار لڑکے پر فائرنگ کرنے والے سیکیورٹی گارڈ سے وزیر اعظم نیتن یاھو نے فون پر بات کی ہے۔ وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی محافظ کا کہنا تھا کہ اس نے فلسطینی لڑکے پرحملہ کرکے دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی ناکام بنائی ہے۔ سپر مارکیٹ کے مالک کا کہنا ہے کہ فلسطینی حملہ آور نے چھری وہیں سے لی جس کے بعد یہودی آباد کاروں پر حملہ کر دیا۔