.

ایران:بیرون ملک اپوزیشن رہ نماؤں کے قتل کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس محمود علوی نے بیرون ملک مقیم اپوزیشن رہ نماؤں کو قتل کرانے کا اعتراف کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق محمود علوی نے یہ انکشاف قم شہر میں طلبہ کی ایک رہائشی اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مخالف جنگجو گروپ بلوچ آرمی کے سابق کمانڈر عبدالرؤف ریگی، اس کے بھتیجے اور کئی دوسری اہم شخصیات کو پاکستان کی سر زمین پر ہلاک کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ عبدالرؤف ریگی کو 28 اگست کو پاکستان کے شہر کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ایران نے اسے اپنے ملک میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ماخوذ قرار دے رکھا تھا۔ اس گروپ کی جانب سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ سنی بلوچ آرمی کے کمانڈر ریگی سمیت کئی دوسرے اہم رہ نماؤں کو ایران نے قتل کرایا تھا۔

گذشتہ برس عبدالرؤف ریگی نے جیش العدل چھوڑنے کے بعد بلوچ آرمی نامی ایک دوسرے تنظیم قائم کی تھی۔ اس سے قبل وہ ایران مخالف تنظیم جنداللہ کے ساتھ بھی رہ چکا تھا۔ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو ایران نے 20 جون 2010ء کو پھانسی دے دی تھی۔ پھانسی سے قبل اسےکرغیزستان سے ایک طیارے کے ذریعے جنوبی ایران کی بندر عباس بندرگاہ میں موجود ایک ہوائی اڈے پر لایا گیا تھا۔

ایرانی وزیر نے بتایا کہ بیرون ملک اپوزیشن رہ نمائوں کے قتل کا ٹاسک انٹیلی جنس کے پاس ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس نے کچھ عرصہ پیشتر تنزانیا میں ایک اپوزیشن رہ نما مھمد بزوغ زادہ کو ہلاک کر دیا تھا۔ بزوغ زادہ سنہ 2007ء اور 2008ء میں جیش العدل سے وابستہ رہا تھا اور اس پر 15 ایرانی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

ماضی میں اپوزیشن رہ نماؤں کا قتل

ایران کی جانب سے اندورن اور بیرون ملک اپوزیشن رہ نماؤں کا قتل کوئی نئی بات نہیں۔ ایران میں ولایت فقہیہ پر مبنی انقلاب کے بعد حکومت مخالف شخصیات کو چن چن کر ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔ جنگجو کمانڈر تو رہے ایک طرف ایرانی خفیہ اداروں نے کالم نگاروں، شاعروں، فنکاروں اور بے ضرر سیاسی رہ نماؤں کو بھی نہیں بخشا۔

سنہ 1990 ء کے عشرے میں اپوزیشن کاقتل عام عروج پر رہا۔ صدر محمد حاتمی کے دور میں اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا مگر اس کے باوجود دسیوں فنکاروں، سیاسی رہ نماؤں، علماء اور مصنفنین کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں محمد مختاری، جعفر بوئندہ، درویش فروہر، ان کی اہلیہ بروانہ، بیروز دوانی اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے قتل میں اس وقت کے ڈپٹی انٹیلی جنس وزیر سعید امامی ملوث تھے۔

ان اہم شخصیات کے قتل میں ایرانی شیعہ علماء کا بھی برابر کا ہاتھ تھا کیونکہ ان کی جانب سے اپوزیشن رہ نماؤں اور حکومت کے خلاف بولنے اور لکھنے والوں کے قتل کے فتوے جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ ان میں آیت اللہ مصباح یزدی اور آیت اللہ جنتی کے فتوے مشہور رہے ہیں اور ان کے فتوں پر 197 مصنفین اور فنکار قتل کیے گئے۔

اس عرصے میں بیرون ملک کارروائیوں میں پیرس میں شاھور بختار، کرد رہ نما ڈاکٹر عبدالرحمان قاسملو اور ڈاکٹر صادق شرفکندی شامل ہیں۔ ان کے دو ساتھیوں کو جرمنی کے شہر برلن میں قتل کیا گیا تھا۔