.

پہلے امریکی صدر کو گدھے اور گائے کے دانت لگائے گئے!

اوباما بھی پہلے امریکی صدر کی بیماری سے مشابہ مرض میں مبتلا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آزادی کے بعد پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن کی شخصیت اور ان کی سیاست کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے مگر بہت کم لوگ حتیٰ کہ امریکی بھی کم ہی جانتے ہوں گے کہ آنجہانی کے منہ میں گھوڑے، گدھے، گائے حتیٰ کہ انسانی دانتوں سے بنائی گئی ایک بتیسی لگائی گئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ چشم کشا انکشافات حال ہی میں جارج واشنگٹن کی 215 ویں برسی کے موقع پر کیے ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک ہفتہ قبل موجودہ امریکی صدر براک اوباما بھی اپنے حلق اور آنتوں میں سوزش کے باعث اسپتال داخل ہوئے تھے۔

صدر براک اوباما کو بھی دانتوں کا مرض لاحق رہا ہے تاہم جارج واشنگٹن کے دور حکومت میں نہ صرف امریکا میں شامل کئی ریاستیں یکے بعد دیگر ملک سے الگ ہوتی رہیں بلکہ ان کے دانت بھی ایک کے بعد ایک گرتے گرتے چلے گئے حتیٰ کہ وہ دانتوں کے حوالے سے ‘‘یتیم‘‘ ہو گئے۔ دانتوں کے گرنے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب جارج ابھی 20 سال کے تھے۔

امریکی ریاست ورجینیا کے 'مائونٹ فیرنون' نامی علاقے میں قائم ایک میوزیم کی ریکارڈ بک میں لکھا ہے کہ سنہ 1789ء میں آزادی حاصل کرنے والے پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن دانتوں کی ایک انوکھی بیماری کا شکار تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان کے منہ میں موجود تمام قدرتی دانت جھڑ گئے۔ چنانچہ اس وقت کے ماہرین طب اور دندان سازوں نے ان کے لیے انسانی دانتوں کے علاوہ گائے، گھوڑے اور گدھے کے دانتوں پر مشتمل جعلی بتیسی تیار کی تھی۔

سیاہ فام افریقی غلاموں کے دانت

پہلے امریکی صدر آنجہانی جارج واشنگٹن سے متعلق ورجینیا کے میوزیم کی ریکارڈ بک میں تحریر کردہ مواد کے مطابق آنجہانی کی دانتوں سے محرومی کے باعث زندگی عذاب بن گئی تو انہوں نے حکماء کو اس کا حل تلاش کرنے کی ہدایت کی۔ ریکارڈ بک میں لکھا ہے کہ جارج واشنگٹن نے 1784ء میں نامعلوم سیاہ فام افریقی غلاموں سے ان کے 09 دانت 122 شلنگز کے عوض خرید کیے۔

جارج واشنگٹن کے مصنوعی دانتوں کے بارے میں امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں حوالہ دیا ہے۔ اس سے قبل ایک امریکی مورخ مائیکل بیچلوس نے بھی George Washington Weakness: His teeth کے عنوان سے ایک مضمون بھی لکھا جس میں انہوں نے جارج واشنگٹن کے دانتوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اس مضمون میں جارج واشنگٹن کی 14 دسمبر 1799ء کو وفات سے پہلے کے نو سال کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے جس میں ان کے مصنوعی دانتوں کا بھی ذکر ہے۔ امریکی مورخ کا کہنا ہے کہ جارج واشنگٹن کی بتیسی کی تیاری میں گھوڑے، گدھے، انسان اور گائے کے دانت استعمال کیے گئے تھے۔

تاہم ’’مائونٹ فیرنون‘‘ میوزیم کے منتظمین جارج واشنگٹن کے حقیقی دانتوں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نکالے گئے دانتوں کو کہاں رکھا گیا تاہم The Trouble with teeth کے عنوان سے ایک دوسری رپورٹ بھی جارج واشنگٹن کے بارے میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ان کا پہلا دانت اس وقت نکالا گیا جب ان کی عمر 24 سال تھی۔

بھنگ کے ذریعے دانتوں کے درد کا تدارک

اخبار‘‘نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن ملک کے سب سے بڑے منصب پر فائز رہتے ہوئے بھی اپنے دانتوں کے بارے میں پریشان رہتے۔ انہوں نے مصنوعی دانت لگوانے کے بعد گفتگو کم کر دی تھی۔ وہ اپنا منہ اکثر بند رکھتے مبادیٰ ان کے مصنوعی دانتوں کا عیب منکشف ہو جائے۔

رپورٹ کے مطابق جارج واشنگٹن نے مصنوعی انسانی دانت ’’جون گرینووڈ‘‘ نامی ایک ڈاکٹر سے خریدے جو پوسٹ مارٹم اور انسانی جسم کی ساخت معلوم کرنے کے لیے قبروں سے انسانی لاشیں نکال کر پر ان تحقیق کرتا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جارج واشنگٹن کو جب دانت میں تکلیف ہوتی تو وہ بھنگ (چرس) کو بہ طور دوا استعمال کرتے۔ بعد میں انہوں نے بھنگ کا استعمال معمول بنا لیا تھا۔ انہوں نے اپنی یاداشتوں میں انکشاف کیا کہ وہ بھنگ کو ایوان صدر ہی میں کاشت کر لیتے تھے۔

جارج واشنگٹن کی وفات کے اسباب کے بارے میں جو معلومات مل سکیں سے ان سے پتا چلتا ہے جو بیماری ان دنوں صدر اوباما کو لاحق ہے وہی جارج واشنگٹن کے لیے جان لیوا ثابت ہوائی تھی۔ یہ بیماری گلے کی سوزش اور آنتوں میں زخم کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ حال ہی میں براک اوباما اسی عارضہ کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے تھے۔