.

کھلونا بندوق سے اسرائیلی بچوں کی ناکام بنک ڈکیتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے بارہ اور تیرہ سال کے دو یہودی بچوں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر گذشتہ بدھ کو کھلونا بندوق دکھا کر ایک بنک کے عملے کو خوفزدہ کرنے کے بعد بنک لوٹنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ پانے کے باعث بنک لوٹنے میں ناکام رہے تھے۔

بنک میں لگے خفیہ کیمروں میں دکھائے گئے بچوں میں سے ایک کو کمر پر اسکول بیگ اور جبکہ دونوں کو ہاتھوں میں جدید ترین رائفلیں اٹھائے تل ابیب کے ریچون لیٹسیون بنک میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزن فیلڈ نے بتایا کہ بنک میں داخل ہونے والے دونوں بچوں کے ہاتھوں میں ’’ایم 16‘‘ طرز کی کھلونا بندوقیں تھیں جو بالکل اصلی معلوم ہوتی تھیں۔ انہوں نے بنک کے اندر داخل ہوتے ہی عملے کو اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہونے اور کسی قسم کی نقل وحرکت نہ کرنے کا کہا۔ مسلح بچوں کو دیکھ کر بنک کا عملہ خوف زدہ ہو گیا، تاہم بچے اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکے اور رقم لوٹے بغیر ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔

ادھر بچوں کے وکیل گیل جایائے نے پولیس کےہاتھوں بچوں کی گرفتاری کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں مسٹر گیل کا کہنا تھا کہ زیر تفتیش دونوں بچوں کی عمریں بارہ اور تیرہ سال کے درمیان ہیں۔ انہیں پولیس نے رات گیارہ بجے ان کے گھروں سے حراست میں لیا اور رات بھر ان سے پوچھ تاچھ جاری رکھی۔

ننھے ڈکیت رات پولیس کی کرسیوں پر سوتے رہے۔ بچوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قانون اس عمر کے افراد سے مجرموں جیسا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔