.

ایک ،دو نہیں زیادہ بچے پیدا کریں:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ضبطِ ولادت کی مخالفت کردی ہے،اس کو ایک غداری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ برتھ کنٹرول سے پوری نسل کے ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔انھوں نے والدین پر زوردیا ہے کہ وہ صرف ایک دو نہیں بلکہ زیادہ بچے پیدا کریں اور ایک جوڑے کے تین بچے تو ضرور ہونے چاہئیں۔

وہ اپنے ایک قریبی ساتھی اور کاروباری شخصیت مصطفیٰ کفیلی کے بیٹے کی شادی کے موقع پر تقریب میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے نوبیاہتا جوڑے کو مخاطب کر کے کہا کہ ضبطِ ولادت ترکی کی نوجوان نسل کی تعداد کو بڑھانے کی خواہش کے منافی ہے۔

انھوں نے کہا:''ایک یا دوبچے کافی نہیں ہیں۔ہماری قوم کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں مزید نوجوان نسل کی ضرورت ہے اور ہمیں ترکی کو جدید تہذیب کی سطح سے بلند کرنے کے لیے بھی یہ نوجوان نسل درکار ہے''۔

ترک صدر نے کہا کہ ''اس ملک میں مخالفین برسوں سے ضبطِ ولادت کی غداری کے مرتکب ہورہے ہیں اور ہماری نسل کو ختم کرنا چاہتے ہیں''۔انھوں نے اپنی تقریر میں شادی کے حسن وقبح پر بھی روشنی ڈالی ہے اور کہا کہ ''شادی ایک طویل سفر ہے،اس میں اچھے اور بُرے دن دونوں آتے ہیں۔اچھے دن تو آتے ہی رہتے ہیں اور اگر صبر کا مظاہرہ کیا جائے تو پھر بُرے دن بھی بالآخر خوشی کا سبب بن جاتے ہیں''۔

انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ''ایک بچے کا مطلب تنہائی ہے،دو کا مطلب مخاصمت اور تین کا توازن ہے،چار کا مطلب کافی ہے اور اللہ باقی کی حفاظت فرمائے''۔

واضح رہے کہ خود ترک صدر چار بچوں کے باپ ہیں۔ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔انھوں نے نومبر میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہر شادی شدہ عورت کے تین بچے ہونے چاہئیں۔انھوں نے یہ بھی قراردیا تھا کہ عورتیں مردوں کے ہم پلّہ نہیں ہیں۔ان کی اس تقریر پر مغرب نواز انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بڑا واویلا کیا تھا۔

وہ کئی مرتبہ خبردار کرچکے ہیں کہ ترکوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے چاہئیں تاکہ ملک کی آبادی میں اضافہ ہو۔ترکی کی آبادی میں حالیہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے اور اس وقت اس کی کل آبادی سات کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے۔