.

داعش کی بھرتی کنندہ لڑکیوں پر کیسے ڈورے ڈالتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں اسی سال شمولیت اختیار کرنے والی ایک برطانوی عورت اب نوجوان لڑکیوں کو دل فریب ترغیبات دے کر بھرتی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اس بھرتی کنندہ کے طریق واردات کا سراغ لگانے کے لیے دو فرضی کردار گھڑ کر اس سابق مغنیہ اور اب مسلم خاتون سے آن لائن رابطہ کیا اور اس سے گفتگو کی کہ وہ کیسے داعش میں شمولیت کے لیے لڑکیوں پر ڈورے ڈالتی ہے اور انھیں کیا کیا ترغیبات دیتی ہے۔

برطانوی ہفت روزے نے عائشہ کے نام سے ایک فرضی کردار گھڑا۔اس کی عمر سترہ سال ہے۔اخبار کے نمائندے نے داعش کی بھرتی کنندہ سیلی جونز ( اب سکینہ حسین) سے رقم کے بدلے معلومات کے طریق کار کے تحت برطانیہ میں داعش کی ممکنہ ریکروٹس کے حوالے سے معلومات حاصل کی ہیں۔

سیلی جونز نے سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ ''بالآخر اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو اللہ کو راضی کرنے کے لیے الکفر کا خاتمہ کرنا ہوگا''۔ان کے درمیان رابطے کا پہلا ذریعہ ٹویٹر تھا۔اس کے بعد انھوں نے مراسلت کے لیے مسینجر ایپلی کیشن کِک کا رُخ کر لیا۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق عائشہ نے سیلی جونز کے فراہم کردہ نام ابو عباس اللبنانی کی حقیقی شناخت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اسی نے ایک ملاقات کا اہتمام کرنا تھا جہاں عائشہ نے دو لڑکیوں کو ترکی بھیجنے کے لیے رقم وصول کرنا تھی۔

اس کے بعد سیلی جونز نے اخبار کے نمائندوں کو بتایا کہ '' آپ کو بھائیوں کے ناموں سے متعلق ویسٹرن یونین کو بتانا ہوگا تاکہ وہ رقوم وصول کرسکیں۔سنیے اگر وہ آپ کو ہجرت کے لیے رقم دیں تو بہن پریشانی کی کوئی بات نہیں۔اس کو صرف آپ کی پاسپورٹ سائز کی تصاویر کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ پتا چل سکے کہ آپ جاسوس یا پولیس کی اہلکار تو نہیں ہو۔اگر ایسا ہے تو پھر بڑا مسئلہ ہوگا۔اس لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔صرف اس کے بھائی سے مل لیجیے اور رقم وصول کر لیجیے''۔

سیلی جونز کے مطابق وہ لبنانی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ لڑکیاں عام طور پر رقوم وصول کر لیتی ہیں لیکن وہ سفر نہیں کرتی ہیں۔ٹائمز کے مطابق لبنانی صاحب نے بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہی ہے۔ان صاحب کے بہ قول:''لوگ لڑکیوں کو ہجرت کے لیے رقوم بھیجتے ہیں لیکن وہ رقوم وصول کرنے کے بعد نہیں آتی ہیں''۔

سکینہ حسین نے عائشہ کو داعش کی خود ساختہ خلافت میں زندگی کی حقیقت کے بارے میں بھی بتایا ہے۔اس کے بہ قول:''بہن شرعی قانون کے تحت خواتین کا کوئی کیرئیر نہیں ہوتا۔ہم بیویاں ہیں اور ہمارے ذمے داری خاوندوں کی دیکھ بھال کرنا ہے''۔تاہم اس کا کہنا تھا کہ داعش کے تحت زندگی بہت ہی شاندار ہے۔وہ آپ کا خیال رکھیں گے۔آپ کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے پھر رقم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔آپ کو صرف شادی کرنا ہوگی تو آپ کو گھر بھی مل جائے گا۔دیانت داری کی بات یہ ہے کہ وہاں صرف مردوں کا بوجھ ہوگا''۔

ویسٹرن یونین شام اور عراق میں بھیجی اور وہاں سے منگوائی جانے والی رقوم کی نگرانی کررہی ہے اور ان دونوں ممالک میں کسی ممکنہ غیر قانونی سرگرمی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔اس کے ترجمان نے سنڈے ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان دونوں ممالک میں لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہماری خدمات کی ضرورت ہے۔اسی وجہ سے ہم وہاں کام کررہے ہیں۔ہم نے داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں اپنے بعض ایجنٹوں کو معطل بھی کیا ہے''۔