.

عراق۔ایران جنگ میں ہلاک ایرانی یہودیوں کی یادگار قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سال [1980-1988] جاری رہنے والی جنگ میں 'کام آنے والے' ایرانی یہودیوں کی ایک تاریخی یادگار قائم کی گئی۔ اس جنگ میں مجموعی طور پر دونوں ملکوں کے دس لاکھ سے زاید افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنگ میں مارے جانے والے یہودی فوجیوں کی یادگار کا افتتاح گذشتہ ہفتے تہران میں کیا گیا۔ اس تقریب میں صدر حسن روحانی کے مشیر برائے اقلیتی و مذہبی امور علی یونسی سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

امریکی اور اسرائیلی اخبارات نے بھی ایران میں یہودی فوجیوں کی یادگار بنانے کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ امریکی رونامہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے نامہ نگار Ishaan Tharoor کی ایک مٖفصل رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہودی فوجیوں کی یادگار پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ میں پندرہ دسمبر کو ہونے والی یادگاری تقریب سے ایرانی حکام کے خطاب پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی فوجیوں کی یادگار نصب کرنے کے لیے ایک اسٹیج بنایا گیا جس کے اطراف میں ایرانی پرچم لہرائے گئے ہیں۔ درمیان میں ایک یہودی شمع دان نصب کیا گیا جس کے گرد جنگ میں مارے گئے یہودی فوجیوں کی یادگاریں نصب کی گئی ہیں اور انہیں فارسی اور عبرانی زبانوں میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہودی فوجیوں کی یاد میں منعقدہ اس تقریب میں بھی ایرانی حکام نے حسب روایت اسرائیل کے خلاف سخت لہجہ اپناتے ہوئے ایران۔اسرائیل دشمنی پر روشنی ڈالی۔ خیال رہے کہ ایران میں اسرائیل کے بعد خطے میں سب سے زیادہ یہودی آباد ہیں جن کی کل آبادی بیس سے تیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

مبصرین کے خیال میں ایران میں یہودی فوجیوں کی تکریم میں یادگاری تقریب اور یادگار کی تنصیب کا مقصد یہودیوں کے ساتھ ایران کے رشتہ احترام و محبت کا اظہار ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایران میں یہودیوں کو دیگر اقوام کے مساوی حقوق حاصل ہیں اور انہیں سرکاری سطح پر عزت واحترام دیا جاتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر محمد حسن ابو ترابی فرد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام میں یہودی اقلیت کی قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی عوام نے کبھی بھی مرشد اعلٰی کے احکامات سے روگردانی نہیں کی۔ حکومت کی جانب سے بھی یہود کو ہر قسم کی مذہبی آزادیاں فراہم کیں۔