.

ہالی وڈ کے سپراسٹاروں کی غزہ جنگ پر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سونی کی افشاء ہونے والی برقی مراسلت سے نت نئے انکشافات ہورہے ہیں اور اس کی تفصیل میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع اور نشر کی جارہی ہے۔حال ہی میں منظرعام پر آنے والی ای میلز سے یہ پتا چلا ہے کہ ہالی وڈ کے سپراسٹار حالیہ غزہ جنگ پر بھی آپس میں بحث کرتے رہے ہیں۔

یہ برقی مراسلت ہالی وڈ کے سپر اسٹارز نتالی پورٹمین ،سکارلیٹ جانسن، ریان سیکریسٹ اور ڈیف جام کے بانی رسل سائمنز کے درمیان ہوئی تھی۔ان کے درمیان موضوع بحث یہ نکتہ تھا کہ کیا غزہ جنگ واقعی ختم ہوچکی ہے؟

ای میل کا یہ سلسلہ اگست میں شروع ہوا تھا۔اس وقت غزہ پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ جاری تھی۔گواکر کے مطابق پروڈیوسر ران روتھلز کو یہود اور اسرائیل مخالف تازہ مضامین کو اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے حلقے میں آگے بھیجنے کی عادت تھی۔ایسے دس سے زیادہ مضامین کوسونی انٹرٹینمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشعل لنٹن کے ان باکس میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن انھوں نے اس کو نظر انداز کردیا تھا۔

اس برقی مراسلت میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی کے حوالے سے سوشل نیٹ ورک کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ریان کوانا کَہ رہے ہیں کہ ''موسم گرما سے قبل کالجوں کے پچاس فی صد طلبہ اسرائیل کی حمایت کررہے تھے لیکن آج اس کے حامیوں کی تعداد گھٹ کر پچیس فی صد رہ گئی ہے''۔

انھوں نے مزید کہا :''امریکا سمیت ہر بڑے شہر میں نفرت پر مبنی جرائم ہورہے ہیں۔ہمیں ایسا ہونے دینا ہے اور یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ایک اور ہولوکاسٹ کو رونما ہونے دیں۔آپ میں سے بہت سے لوگ شاید یہ خیال کریں کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو یہ ایک انتہا پسندی ہے۔میری دادی اماں نے مجھے کئی بار کہا تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے اور ہرکوئی یہ خیال کرتا ہے کہ حکومت ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔امریکا کو قدم بڑھانے میں پانچ سال لگ گئے تھے لیکن تب تک ایک کروڑ بیس لاکھ افراد مارے جاچکے تھے''۔

مسٹر کوانا نے اگست میں بھی شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی تھی۔اس نے دا ہالی وڈ رپورٹر کو ایک ادارتی خط لکھا تھا اورا س میں اداکاروں ہاوئیر بارڈیم اور پینیلوپ کروز کے دستخط شدہ ایک خط کی مذمت کی تھی۔ان کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے اپنے خط میں اسرائیل کے غزہ پر حملے کی مذمت کردی تھی۔

اسرائیلی امریکی شہری پورٹمین کو اس موضوع میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے۔وہ صرف یہ کَہ رہے ہیں کہ ''آپ کو عوامی سطح پر میری تقلید نہیں کرنی چاہیے۔بیس لوگوں کو میری ذات سے متعلق معلومات ہیں لیکن میں انھیں نہیں جانتا۔مجھے اب اپنا ای میل ایڈریس تبدیل کرنا ہوگا''۔