.

جرمن شہر گوسلار کو اپنے لئے مکینوں کی تلاش!

شہری انتظامیہ آبادی میں تیزی سے ہونے والی کمی پر متفکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں کم شرح پیدائش کی وجہ سے ملک میں تیزی سے نوجوانوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن اس اہم یورپی ملک کے ایک چھوٹے مگر تاریخی شہر گوسلار میں ناپید مکینوں کی وجہ سے حکومت سخت پریشان ہے اور آبادی سے خالی مکانوں کو بسانے کے لیے پناہ گزینوں کی تلاش میں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گوسلار شہر کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’’یونیسکو‘‘کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا چکا ہے۔ اس شہر میں لکڑی کے بنے پرانے طرز تعمیر کے ہزاروں مکانات خالی پڑے ہیں۔

تیزی کے ساتھ انسانی آبادی سے خالی ہوتے شہر گوسلار کے میئر الیفر جونک نے کچھ عرصے سے ملک میں آنے والے غیرملکی تارکین وطن کو اپنے شہرمیں لا کر آباد کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے لیکن انہیں اس مہم میں کوئی خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

برطانوی اخبار’’انڈی پینڈنٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 38 سالہ جونک کو اپنے شہر میں انسانی آبادی بڑھانے بالخصوص نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے سخت تگ ودو کرنا پڑی ہے۔ شہر میں آبادی کی کمی کی کئی وجوہات ہیں۔

شہریوں کا روزگار کی تلاش کے لیے دوسرے بڑے شہروں میں منتقل ہونا ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ اموات کے باعث بھی آبادی میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ شہر میں دس سال قبل 50 ہزار افراد آباد تھے۔ دو سال پہلے یہ تعداد کم ہو کر 10 ہزار پر آ گئی تھی اور اب صرف چار ہزار نفوس باقی بچے ہیں۔ ان میں سے بھی بیشتر وہ ہیں جن کے پائوں قبر میں ہیں اور آنے والے وقتوں میں شہروں کی آبادی سے زیادہ قبرستانوں کے آباد ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق جرمن شہر کے میئر کو ایک عیسائی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے یہ ترغیب دی کہ وہ بیرون ملک سے آنے والے تارکین وطن پر توجہ دیں اور انہیں اپنے شہر میں بسانے کی کوشش کریں تاہم انہیں اس لیے بھی اپنے مقصد میں کامیابی نہیں مل سکی کیونکہ جرمنی میں آنے والے غیر ملکیوں کو بڑے شہروں میں آباد کیے جانے کے لیے کوٹہ مقرر ہے اور اس کوٹے میں گوسلار جیسے شہروں کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گوسلار شہر جرمنی کا تاریخی اعتبار سے نہایت اہم مقام ہے جو ریاست سکسونیا السفلیٰ میں واقع ہے۔ جرمنی کے عالمی شہرت یافتہ شہر ھانوور سے یہ شہر تقریباً 70 کلومیٹر دور ہے۔ شہر میں 10 ہزار سے زائد مکانات ہیں، جو اگرچہ پرانے طرز تعمیر کے مطابق بنائے گئے ہیں تاہم آبادی نہ ہونے کے باعث وہ خالی پڑے ہیں۔

جن کی ضرورت انہی کے خلاف احتجاج بھی!

جرمنی میں پچھلے چند ایام کے دوران اسلام مخالف گروپوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔جرمنی میں مقیم مسلمانوں کی بڑی تعداد تارکین وطن پر مشمل ہے اور وہاں پر موجود دوسرے مذاہب کے شدت پسند مسلمانوں کی بڑھتی تعداد سے خائف ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جرمنی میں موجود تمام غیر ملکی مسلمان وہاں سے نکل جائیں۔

یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جرمنی میں شرح پیدائش نہایت کم ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی میں غیر معمولی کمی واقع ہو رہی ہے اور حکومت کو شہر بسانے کے لیے غیر ملکی تارکین وطن کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جرمنی میں گوسلار جیسے چھوٹے شہروں میں پچاس سال سے کم عمر کے افراد روزگار کی تلاش کے لیے بڑے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

جرمنی میں سال 2014ء کے دوران بیرون ملک سے 02 لاکھ تارکین وطن میں اضافہ ہوا تاہم بیرون ملک سے آنے والوں کو گوسلار جیسے چھوٹے شہروں میں آباد کرنے کے بجائے انہیں بڑے شہروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہاں پرآبادی کی قلت دور کرنے میں مدد لی جا سکے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمنی میں آبادی میں جس تیزی کے ساتھ کمی ہو رہی ہے وہ نہایت خطرناک ہے اور مستقبل قریب میں جرمنی کی آبادی میں خوفناک حد تک کمی ہو سکتی ہے۔