.

او آئی سی کے سربراہ کا مسجد الاقصیٰ کا تاریخی دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ستاون مسلم ممالک کی نمائندہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل ایاد بن امین مدنی نے مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کیا ہے اور وہاں وہ مسجد الاقصیٰ کی زیارت کے لیے گئے ہیں۔انھوں نے مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ بھی اپنے قبلہ اوّل میں عبادت کے لیے آئیں تاکہ فلسطینیوں کے اس مقدس مقام اور شہر پر دعوے کو تقویت مل سکے۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایاد مدنی نے ایسے وقت میں مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کیا ہے جب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان اس شہر میں شدید کشیدگی پائی جارہی ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران تشدد کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

انھوں نے مسجد الاقصیٰ کے دورے کے موقع پر کہا کہ ''اس مسجد میں آنا میرا اور ہر مسلمان کا حق ہے۔یہ ہمارا حق ہے کہ ہم یہاں آئیں اور عبادت ادا کریں۔کوئی قابض اتھارٹی ہم سے یہ حق چھین نہیں سکتی ہے''۔

ایاد مدنی کے پیش رو او آئی سی کے سربراہ پروفیسر اکمل الدین احسان اوغلو نے بھی مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کیا تھا۔ تاہم سعودی شخصیات شاذ ہی اس شہر کے دورے پر آتی ہیں اور اس کے لیے انھیں اسرائیل سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ صہیونی ریاست اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس حال ہی میں دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دے چکے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے مقبوضہ بیت المقدس آئیں۔ تاہم بعض مذہبی قائدین کا کہنا ہے کہ جب تک یہ شہر اسرائیل کے قبضے میں ہے تو مسلمانوں کو اس کے دورے سے گریز کرنا چاہیے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور مکہ معظمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے بعد یہ مسلمانوں کے لیے تیسرا متبرک مقام ہے لیکن یہود بھی اس کی ملکیت اور اس کے اپنے لیے متبرک ہونے کے دعوے دار ہیں۔وہ اس کو ٹیمپل ماؤنٹ قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی حکومت القدس شہر اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے بڑی خاموشی سے مگر بتدریج اقدامات کررہی ہے۔

اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ کے دوران مقبوضہ بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے کبھی اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا جبکہ فلسطینی اس شہر کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ پر تنازعے کی وجہ سے مقبوضہ القدس میں یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اکثروبیشتر تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔حال ہی میں انتہا پسند یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دراندازی کی تھی جس کے بعد ان افواہوں کو تقویت ملی تھی کہ اسرائیل اس مقدس مقام پر قبضے کی تیاری کررہا ہے۔اسرائیل نے ان افواہوں کی تو تردید کی تھی لیکن انتہا پسند یہودیوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔اس پر فلسطینیوں نے صہیونی ریاست کے خلاف پُر تشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔اس کے ردعمل میں اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔