.

پیرس ہلاکتیں: اسرائیل کے لیے ساکھ بہتری کا موقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کے مرتکب اسرائیل کے لیے دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہونے والی دہشت گردی ایک سانحے سے کم نہیں ہوتی۔ چاہے دہشت گردی کا تعلق مسلمانوں سے ہو یا نہ ہو لیکن اسرائیلی میڈیا کے لیے ایسے واقعے کو بنیاد بنا کر مسلمان منافرت اور شر انگیز مہم کے لیے کا نیا موقع ہاتھ آ جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں فرانسیسی جریدے 'چارلی ہیبڈو' پر حملے کو بھی اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف اپنے بے جا غم وغصے کے اظہار کے لیے موقع غنیمت جانا۔ اسرائیل کے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا نے مشرق وسطیٰ کی عرب اقوام اور پورے عالم اسلام کو خوب ریگدنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مرتکب فرانسیسی اخبار کے دفتر پر حملے کے بعد اسرائیلی میڈیا نے فرانس کی جنتی ’وکالت‘ شروع کر رکھی ہے فرانسیسی میڈیا اس کی خاک کو بھی نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ اسرائیلی پریس کی اس ہمدردی کے پس پردہ اصل محرکات مسلمانوں کو بدنام کرنا اور ساتھ ہی ساتھ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب اسرائیلی ریاست کی یورپ میں خراب ہوتی ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔

اسرائیلی اخبارات نے جہاں ایک طرف پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پورے عالم اسلام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہیں پیرس کو بھی یاد دلانے کی کوشش کی ہے فرانسیسی حکومت نے گذشتہ دسمبر کے آخر میں سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے مطالبے پر مبنی قرارداد کی حمایت کی تھی۔

"فرانس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس نے انہی عربوں اور مسلمانوں کی حمایت کی ہے جو آج اس کے اخبارات اور کئی دوسرے مقامات پر دہشت گردی کے گہرے گھائو کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔"