''اپنی بچّیوں کو بچاؤ''بھارتی وزیراعظم مودی کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچیوں کو ان کی پیدائش سے قبل ہی قتل مت کریں۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ روکا نہیں گیا تو ملک میں جنسی عدم تفاوت پیدا ہوجائے گا اور اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔

وزیراعظم مودی جمعرات کو ریاست ہریانہ میں ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ان کے سامعین میں زیادہ تر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔انھوں نے ان خواتین سے کہا کہ ''وہ خاندانوں اور معاشرے کی جانب سے بچیوں کے حمل کے اسقاط کے لیے دباؤ کی مزاحمت کریں''۔واضح رہے کہ بھارت کی اس ریاست میں بچوں کے مقابلے میں بچیوں کی شرح پیدائش سب سے کم ہے۔

نریندر مودی نے ''اپنی بچیوں کو بچاؤ،اپنی بیٹیوں کو تعلیم دو'' کے عنوان سے ملک گیر ایک مہم شروع کی ہے۔انھوں نے اس موقع پر کہا کہ ''ملک کا وزیراعظم آپ سے یہ خواست گار ہے کہ لڑکیوں کی زندگیوں کو بچاؤ''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا اور اس اعتقاد کو بھی ختم کرنا ہوگا کہ لڑکے لڑکیوں سے برتر ہوتے ہیں۔ہمیں اپنی ذہنیت تبدیل کرنی چاہیے۔ہمیں استحکام لانے کی خاطر صنفی شرح میں فوری طور پر ایک توازن قائم کرنا ہوگا یا پھر ہمیں اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہوگا''۔

نریندر مودی نے ڈاکٹروں سے بھی کہا ہے کہ وہ جنس کی بنیاد پر اسقاط حمل کا سلسلہ بند کردیں اور اس کے بجائے اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بروئے کار لائیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں بچیوں کے حمل کا ماں کے پیٹ ہی میں پتا چلنے کے بعد اسقاط کرانے کا عمل عام ہے۔خاص طور پر دیہات میں بیشتر والدین لڑکیوں پر لڑکوں کو ترجیح دیتے ہیں اور وہاں یہ سوچ عام ہے کہ لڑکے ہی خاندان کے نام کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔اس لیے بچیوں کو پیدا ہی نہیں ہونے دیا جاتا ہے یا پھر پیدائش کے فوری بعد انھیں موت کی وادی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

گذشتہ سال اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ بھارت میں صنفی عدم مساوات کی شرح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔بھارتی حکومت نے ملک کے ایک سو ایسے اضلاع کی نشان دہی کی ہے جہاں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح پیدائش 837 اور 875 کے درمیان تھی۔یہ جنسی عدم توازن خطرناک صورت حال کا غماز ہے۔

بھارت میں پیدائش سے قبل بچوں کی جنسی کا تعیّن غیر قانونی ہے اور اس پر پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے لیکن اس کے باوجود سنہ 2011ء میں برطانیہ کے ایک میڈیکل جرنل ''دا لانسٹ'' نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے اس دوسرے بڑے ملک میں گذشتہ تین عشروں کے دوران ایک کروڑ بیس لاکھ بچیوں کے حمل کا اسقاط کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں