.

ہالینڈ کا شہری قاتلانہ حملے میں ‌معجزانہ طور پر محفوظ

تین گولیاں جسم میں پیوست ہونے کا منظر کیمرے نے محفوظ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"جسے اللہ رکھے، اُسے کون چکھے" کی کہاوت ویسے ہی مشہور نہیں۔ دنیا میں ایسے واقعات اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جب انسان موت کے منہ سے زندگی چھین کر اس ضرب المثل کو سچ ثابت کر دیتے ہیں اور ایسے ہی واقعات کو معجزہ کہا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں ہالینڈ میں ایسا ہی ناقابل یقین واقعہ ایک ہوٹل میں ‌پیش آیا جب گاہک کو کھانا کھانے کے دوران ایک شخص نے پوانئٹ بلینک فاصلے سے تین گولیاں ماریں، وہ زخمی تو ہوا مگر مجزانہ طور پر بچ گیا۔

یہ واقعہ وسطی امریکا کے شہر بنما میں سمندر کے کنارے ایک ہوٹل میں اس وقت پیش آیا جب کے جاکوبو فندر ھارٹ نامی شخص کھانا کھانے میں ‌مصروف تھا کہ اس کی عقب سے ایک شخص نے اس پر پستول سے نہایت کم فاصلے سے تین گولیاں چلائیں۔ گولیاں چلتے ہی وہ زمین پر گر گیا تاہم معجزانہ طور پر اس کی زندگی بچ گئی۔

ہالینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ 44 سالہ فندر ہارٹ پر حملہ کرنے والا شخص مبینہ طور پر اجرتی قاتل ہو سکتا ہے تاہم پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ہارٹ کا دوست بھی تھا جو اب تک فرار ہے۔

فائرنگ کے بعد حملہ آور کچھ دیر کے لیے ہوٹل کے باہر کھڑا رہا۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ فندر ھارٹ کا کام تمام کر چکا ہے۔ تاہم میڈیکل ایمرجنسی سروس نے ھارٹ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا جہاں اس کی زندگی بچا لی گئی۔ یہ سارا منظر ہوٹل میں لگے کلوز سرکٹ کیمرے میں محفوظ ہو گیا، جس کی مدد سے ملزم کی شناخت بھی ہو گئی ہے۔

ہوٹل کے ڈائریکٹر ٹیراٹون نے مقامی اخبار "ایل سیگلو" کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور فندر ھارٹ کو جاننے والا ہے کیونکہ اس نے عقبی سمت سے اس پر اندھا دھند گولیاں چلائیں اور فرار ہو گیا۔

ہالینڈ کے نیوز ویب پورٹل"ایچ ایل این ڈاٹ بی ای" کے مطابق جاگوبو فندر ہارٹ کا تعلق شہر ایمسرڈم سے ہے۔ اس کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ 24 دسمبر کو ترکی کے شہر استنبول میں بھی پیش آیا تھا تاہم اس میں حملہ آور نے اسلحے کے ایک معروف تاجر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔