.

متحدہ عرب امارات کی پہلی خاتون کرین آپریٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں کے دوران دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کی ہے اور تعمیر وترقی کے شعبے میں اس کے شہروں نے کئی عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے ہیں۔یو اے ای کے دارالحکومت ابوظبی کو اب یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے کہ عائشہ حسن عبدالرحمان المرزوقی اس کی خلیفہ بندر گاہ پر پہلی خاتون کرین آپریٹر بن گئی ہیں۔

اٹھائیس سالہ عائشہ امارات ہی کی شہری ہیں۔وہ ابو ظبی بندرگاہ کی ایک بڑی سپر پوسٹ پینامیکس کرین چلاتی ہیں،اس کرین کا وزن 1932 ٹن اور اونچائی 126.5 میٹر ہے۔ان کا کام کرین کے ذریعے بحری جہازوں سے کنٹینروں کو اتارنا ہے۔ان کی کرین 90 ٹن تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عائشہ المرزوقی اس وقت تربیتی مرحلے سے گزر رہی ہیں اور اس کی تکمیل کے بعد وہ آزادانہ طور پر کام کرسکیں گی۔دوسرے بہت سے پیشوں کی طرح وہ ایسی جگہ کام نہیں کرتی ہیں جہاں وہ ایک ڈیسک پر بیٹھ کر کمپیوٹر چلا رہی ہوں بلکہ انھیں شیشے کے ایک کیبن میں بیٹھنا ہوتا ہے اور پھر نیچے جہازوں پر نظر رکھنا ہوتی ہے جہاں سے وہ کنٹینروں کو باری باری کرین کے ذریعے اٹھانے کے بعد اتارتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ''کام کے سلسلے میں بہت سے چیلنجز درپیش ہوتے ہیں لیکن میں اپنی اس ملازمت سے محبت کرتی ہیں۔اس کے لیے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ میں حجم میں ایک بڑی مشین کو چلا رہی ہوتی ہوں اور اس نے بھاری کنٹینر اٹھائے ہوتے ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں یہ ملازمت متحدہ عرب امارات کے شہریوں کی سرکاری اسامیوں پر بھرتی کے عمل کے ذریعے ملی ہے۔وہ پہلی خاتون کرین آپریٹر کی حیثیت سے اپنے معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کرنا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ یو اے ای فضائیہ کی ایک خاتون ہواباز پر دستاویزی فلم سے متاثر ہوئی تھیں اور خلیفہ پورٹ کے کنٹینر ٹرمینل کے ایک دورے اور اس کو گہری نظر سے دیکھنے کے بعد انھوں نے کرین آپریٹر بننے کا فیصلہ کیا تھا۔

عائشہ المرزوقی ہفتے میں پانچ دن کام کرتی ہیں اور ان کی شفٹ صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک آٹھ گھنٹے کی ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس ملازمت کے لیے ان کے خاندان نے بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کی وجہ سے وہ امارات کی پہلی خاتون کرین آپریٹر بن گئی ہیں۔