شاہ سلمان کی ہدایت پر نوجوان وزراء کا تقرر

سعودی کابینہ میں ‌رد وبدل، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت تعلیم کا ادغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 37 نئے شاہی فرامین جاری کیے ہیں جن لے بموجب سعودی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ شاہ سلمان کی ہدایت پر کابینہ میں نوجوان وزراٰء کی بڑی تعداد کو شامل کیا گیا ہے جبکہ وزارت تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کی الگ الگ وزارتوں کو ایک محکمے میں مدغم کر دیا گیا ہے اور وزارت تعلیم کا قلمدان عزام الدخیل کے سپرد کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ ‌نیٹ کے مطابق شہزادہ منصور بن متعب کو وزیر مملکت اور مشیر خادم الحرمین الشریفین مقرر کیا گیا ہے۔ الشیخ صآلح آل الشیخ کو وزیر مذہبی امور، ڈاکٹر ولید الصمعانی کو وزیر انصاف اور ابراہیم السویل کو وزیر مواصلات لگایا گیا ہے۔

شاہ سلمان کی ہدایت پر کابینہ میں نئے اور نوجوان چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے حکم پر ڈاکٹر ماجد القصبی کو وزیر برائے سماجی بہبود، انجینیئر عبداللطیف آل الشیخ کو وزیر برائے دیہی ترقی اور العربیہ نیوز چینل کے جنرل منیجر ڈاکٹر عادل الطریفی کو وزیر ثقافت واطلاعات کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ کابینہ میں شامل تعلیمی پالیسی کمیٹی ختم کر دی گئی ہے اس کی جگہ کابینہ میں پولیٹیکل و سیکیورٹی کونسل کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نائب ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ کابینہ میں اقتصادی ترقی کمیٹی کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ شاہ سلمان کے دیگر تازہ فیصلوں میں احمد الخطیب کو وزیر صحت، عبدالرحمان الفضلی کو زراعت کی وزارت سونپی گئی ہے۔ شہزادہ خالد الفیصل کو شاہ سلمان کا مشیر اور گورنر مکہ مقرر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد العیسیٰ کو علماء کونسل کی رکنیت سے فارغ کر دیا گیا ہے اور ڈاکٹر عبدالعزیز بن سطام بن عبدالعزیز کو خادم الحرمین الشریفین کے مشیر کا خصوصی عہدہ سونپا گیا ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدیات پر شہزادہ فیصل بن بندر کو امیر ریاض، شہزادہ فیصل بن مشعل کو القصیم کا گورنر، جنرل خالد الحمیدان کو انٹیلی جنس چیف، تمیم بن سالم کو شاہ سلمان کے پرنسپل سیکرٹری کے معاون خصوصی، محمد بن عجاجی کو ماہرین کونسل کا چییرمین، محمد بن حلوہ فہد السماری اور عبداللہ المحیسن کو شاہی دیوان کے مشیر، ڈاکٹر ترکی بن سعودی بن محمد کو شاہ عبدالعزیز سٹی آف سائنس وٹکنالوجی کا چیئرمین، شہزادہ منصور بن مقرن کو شاہی دیوان کا مشیر، ڈاکٹر خادل بن المحسین کو چیئرمین محکمہ انسداد بدعنوانی، محمد العجان کو شعبہ مالیات اور مارکیٹینگ کا چیئرمین، ڈاکٹر یحیی الصمعان کو چیئرمین مجلس شوریٰ، ڈاکٹر عبدالرحمان السند کو چیئرمین امر بالمعروف ونہی عن المنکر، اور شہزادہ مشعل بن عبداللہ جلوی کو شاہ سلمان کا مشیر مقرر کیا گیا۔

سعودی فرمانروا کی جانب سے جہاں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور مختلف محکموں کے سربراہان کے تقرر اور تبادلے کیے گئے ہیں۔ وہیں کئی محکموں کے لیے لیے بجٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ شاہ سلمان کی ہدایت پر عبدالعزیز التویجری کو بندرگاہوں کے امور سے ہٹا کر ڈاکٹر نبیل العامودی کو محکمے کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ شاہ سلمان کہ ہدایت پر اسپورٹس کلب کے لیے 10 ملین ریال، ادب وکلچرل کلب کے لیے 10 ملین ریا، بجلی اور پانی کے شعبے کہ بہتری کے لیے 20 ارب ریال، بجلی کے نئے منصوبوں ‌کے لیے 14 ارب ریال اور پانی کی فراہمی کے لیے چھ ارب اریال کی رقم مختص کی گئی ہے۔ قیدیوں کے لیے جیل خانہ جات کو نصف ملین ریال کی رقم فوری ادا کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ شاہ سلمان کے حکم پر خالد بن العباد کو شاہی امور کے نائب چیئرمین اور حازم مصظفیٰ زقزوق کو خادم الحرمین الشریفین کے خصوصی امور کا چیئرمین مقرر کیا یگ اہے۔

نئے شاہی فرامین کے تحت شہزادہ فہد بن عبداللہ کو شہری دفاع کے عہدے سے ہٹا کر سلیمان الحمدان کو اس کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے اور فہد العیسیٰ کو ڈائریکٹر وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں