.

فلسطینی کے فرار کی ''سیلفی'' کی حقیقت کچھ اور!

بھاگتے فلسطینی کا پیچھا کرنے والے اسرائیلی نہیں ،اس کے ساتھی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر ایک فلسطینی کی اسرائیلی فوجیوں سے بچاؤ کے لیے فرار ہوتے ہوئے سیلفی کا بہت چرچا ہے اور اس کو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور شئیر کیا ہے لیکن اس کے باریک بینی سے مشاہدے سے پتا چلتا ہے کہ یہ فلسطینی بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے بھاگ تو ضرور رہا ہے لیکن معاملہ کچھ اور ہے۔

اس تصویر کو فلسطینی بینڈ دام نے ٹویٹر پر پوسٹ کیا تھا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ انٹرنیٹ پر پھیل گئی اور صرف چوبیس گھنٹے میں چوبیس ہزار افراد نے اس کو ری ٹویٹ کیا ہے۔

ٹویٹر کے صارفین تصویر میں نظر آنے والے شخص کی بہادری کی تعریف کررہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اس شخص نے اسرائیل کی دفاعی فورس کے ارکان سے گرفتاری سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے اپنی یہ تصویر بنائی ہے۔

تاہم ٹویٹر کے متعدد صارفین نے بعد میں نشان دہی کی ہے کہ اس فلسطینی کا پیچھا کرنے والے اسرائیلی فوجی نہیں بلکہ اس کے بینڈ دام کے دو ارکان سہل نفر اور محمود جریری ہیں اور انھوں نے اسرائیلی فوجیوں کی وردیاں پہن رکھی ہیں۔

اس بینڈ سے وابستہ ایک معاون نے بزفیڈ نیوز کو بتایا ہے کہ دراصل یہ تصویر اسٹیج کی گئی تھی لیکن بینڈ اس کی نشان دہی نہیں کرنا چاہتا تھا اور اس کے ارکان اب اس تصویر پر آن لائن آنے والے تبصروں اور ردعمل سے محظوظ ہورہے ہیں۔

اس گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق دام (دا عربیئن ایم سی) فلسطین کا پہلا ہپ ہاپ گروپ تھا اور یہ سب سے پہلے عربی زبان میں گانے والے گروپوں میں سے ایک ہے۔اس کے ارکان نے 1990ء کے عشرے کے آخر میں اکٹھے مل کر کام کا آغاز کیا تھا۔