.

امریکی خاتون کے''انکار'' نے کام بگاڑ دیا

داعش کی جیل میں ماری گئی کیّلا میولر کے مبینہ خاوند کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے زیرحراست اردن کے لڑاکا طیارے کے فضائی حملے میں فروری کے اوائل میں ماری گئی امریکی امدادی خاتون کارکن کے ساتھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کیّلا میولر کو رہا کرانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے ایک انکار نے سارا کام بگاڑ دیا تھا۔

برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق کیّلا میولر کا ساتھی عمر آل خانی سنہ 2013ء میں دوماہ تک داعش کے زیر حراست رہا تھا۔اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رہائی کے بعد دوبارہ شام کا سفر کیا تھا کہ تا کہ وہ اپنی ساتھی کیّلا کو داعش کی قید سے آزاد کراسکے۔

لیکن عمر کی یہ کوشش اس وقت رائیگاًں چلی گئی جب کیّلا میولر نے اس کی بیوی ہونے سے انکار کردیا۔ان دونوں کی ایک کور اسٹوری چھپی تھی جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ دونوں میاں بیوی ہیں لیکن امریکی امدادی کارکن نے اس سے انکار کردیا تھا۔اس اسٹوی کے حوالے سے دونوں میں یہ طے پایا تھا کہ وہ بعد میں اس کا ازالہ کردیں گے۔

عمر کے بہ قول''داعش کے جیل کے جج نے کہا تھا کہ ''وہ میری (عمر کی) بیوی ہونے سے انکاری ہے۔جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہے تو وہ رونے لگی اور صرف یہ کَہ سکی '' مجھے پتا نہیں''۔

اس کے بعد داعش کے جج نے میولر سے کہا تھا کہ اگر وہ سچ بولتی ہے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا مگر اس نے جج کو یہ صاف صاف جواب دیا تھا:''نہیں ،وہ میرا خاوند نہیں ہے بلکہ میرا منگیتر ہے''۔

؛امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے شام میں داعش کے زیرحراست کیّلا میولر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ امریکا کو خواہ کتنا ہی عرصہ لگ جائے ،وہ اس کو یرغمال بنانے اور اس کی ہلاکت کے ذمے دار دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے 6 فروری کو ایک بیان میں اردن کے فضائی حملے میں میولر کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ اس کو جس عمارت میں قید رکھا گیا تھا،اس پر اردن کے طیاروں نے بمباری کی تھی اور وہاں موجود افراد مارے گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کی ایک خاتون ترجمان برناڈیٹ میہان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ داعش کے اغوا کاروں نے اختتام ہفتہ پر ذاتی طور پر میولر کے خاندان سے رابطہ کیا تھا اور انھیں ایک پیغام میں اس کی موت کی اطلاع دی تھی۔ میولر کے خاندان نے بھی اس کی موت کی اطلاع کی تصدیق کی تھی اور اس کی جانب سے دوران حراست بہار 2014ء میں لکھا گیا ایک خط جاری کیا تھا۔

اس میں کیّلا میولر نے لکھا تھا کہ ''وہ ایک محفوظ مقام پر ہے ،مکمل طور پر صحت مند ہے اور اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جارہا ہے''۔اس نے لکھا تھا:''مجھے اندھیرا اور روشنی میسر ہے۔میں یہ جان سکی ہوں کہ ایک شخص قید میں بھی آزاد ہوسکتا ہے۔میں ٹوٹ نہیں رہی ہوں۔خواہ کتنی ہی دیر لگ جائے میں حوصلہ نہیں ہاروں گی''۔

یادرہے کہ چھبیس سالہ میولر ایک امدادی کارکن تھی اور وہ شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے گئی تھی۔ داعش کے جنگجوؤں نے اس کو شام کے شمالی شہر حلب میں اگست 2013ء میں ایک اسپتال سے باہر نکلتے ہوئے اغوا کر لیا تھا۔ میولر داعش کے زیر حراست آخری معلوم امریکی شہری تھی۔اس سے پہلے داعش کا ایک نقاب پوش جنگجو حالیہ مہینوں کے دوران تین امریکی ،دوبرطانوی اور دو جاپانی یرغمالیوں کے سر قلم کرچکا ہے۔یہ تمام مقتولین امدادی کارکنان تھے یا پھر صحافی تھے۔