.

فلسطینی بینڈ کی نیتن یاہو کے انتخابی اشتہار پر تنقید

لیکوڈ پارٹی کے بائیں بازو مخالف اشتہار پر قانونی چارہ جوئی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی نوجوانوں کے ایک بینڈ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے انتخابی مہم کے لیے اشتہار پر کڑی تنقید کی ہے اور اس میں ان کے گانے کو سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے وابستہ کرنے پر قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔

اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم گروپ ترابیہ نے اپنے فیس بُک صفحے پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ''مجرم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی لیکوڈ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ پروپیگنڈا ویڈیو میں ترابیہ کے گانے غرابہ کو استعمال کیا جارہا ہے''۔

''ہم صہیونی دشمن کے ساتھ تعاون کی تمام شکلوں کو مسترد کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اس کے ذمے داروں کے خلاف ضروری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی''۔بیان میں کہا گیا ہے۔

اس گروپ نے مزید کہا ہے کہ ''کسی خاص تناظر میں گانے کے استعمال کو صہیونی دائیں بازو کی جانب سے سوچا سمجھا پروپیگنڈا قرار دیا جاسکتا ہے۔وہ انتخابی مقصد کے لیے صہیونی بائیں بازو پر حملے کے لیے یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں''۔

لیکوڈ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیلیوں نے بائیں بازو کی جماعتوں مارچ میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ دیا تو اس سے داعش کو فائدہ ہوگا۔اس فوٹیج میں متعدد جنگجو ایک پک اپ ٹرک پر نمودار ہورہے ہیں۔وہ داعش کا پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک اسرائیلی ڈرائیور سے مقبوضہ بیت المقدس کا راستہ پوچھ رہے ہیں۔

وہ انھیں یہ مختصر جواب دیتا ہے:''بس یہاں سے بائیں مڑ جائیں''۔اے ایف پی کے مطابق لیکوڈ پارٹی نے ترابیہ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی کا فی الفور کوئی جواب نہیں دیا ہے۔