.

جو بائیڈن امریکا کے حقیقی ''وائس''پریزیڈینٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ،نائب صدر اور وزراء ایک دوسرے کی بیگمات سے اہم تقریبات کے مواقع پر معانقہ اور بوسے بازی تو کرتے رہتے ہیں اور یہ فعل ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔اس لیے وہ اس کا بُرا نہیں مانتے ہیں۔

مگر اس معانقے اور بوسے بازی کی بھی کچھ حدود وقیود اور آداب ہیں۔ان کو ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے لیکن امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن صاحب نئے وزیردفاع ایش کارٹر کی منگل کے روز حلف برداری کے موقع پر تمام اخلاقی حدود وقیود ہی پھلانگ گئے ہیں۔وہ ان کی اہلیہ کے دائیں ،بائیں اتنا قریب پائے گئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان کو نائب کے بجائے ''وائس''(صوتی) صدر قرار دے دیا ہے اور انھیں طنزیہ تنقید کا سامنا ہے۔

جو بائیڈن وزیردفاع ایش کارٹر کی حلف برداری کے بعد تقریر کے موقع پر ان کے ساتھ ہی کھڑے تھے۔ان کی اہلیہ اسٹیفنئی کارٹر بھی وہیں موجود تھیں۔جوبائیڈن صاحب کو اسٹیفنئی سے کانا پھوسی کا شاید کوئی اور موقع میسر نہیں آسکا تھا اور انھوں نے ان کے دونوں شانوں پر اپنے بازو رکھ کر کان میں کچھ کہنا شروع کردیا۔

نائب صدر کی اس حرکت پر وہ شرمانے کے سے انداز میں مسکراتی ہی رہ گئیں۔اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتی تھیں،اگر وہ جو بائیڈن کا ہاتھ اپنے کاندھوں سے پائے حقارت سے جھٹک دیتیں تو اس سے ان کی بھرے مجمعے میں سُبکی ہوجاتی لیکن انھوں نے نائب صدر صاحب کی لاج رکھ لی۔

اس دوران کارٹر نے ان کی حرکات کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور اپنی تقریر جاری رکھی۔پھر وہ اپنی اہلیہ کی جانب مڑے اور جوبائیڈن صاحب پیچھے ہٹ گئے مگر ان کے اس طرح وزیردفاع کی اہلیہ کے بالکل قریب آنے پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور لکھاری انھیں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔