.

ذکری علوش بغداد کی پہلی خاتون میئر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی حکومت نے پہلی مرتبہ ایک خاتون ذکری محمد علوش کو بغداد کی مئیر مقرر کیا ہے۔

ذکری علوش پیشے کے اعتبار سے سول انجنیئر اور وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ وہ عراق بھر میں میئر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ ان کا عہدہ کابینہ کے وزیر کے برابر ہوگا اور وہ براہ راست وزیراعظم حیدرالعبادی کے تحت کام کریں گی۔

بلدیہ بغداد کے ذرائع کے مطابق وہ آج اتوار سے اپنی نئی ذمے داریاں سنبھال رہی ہیں۔عراقی حکومت کے ترجمان رفید جبوری نے ہفتے کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ وزیراعظم عبادی نے بغداد کے میئر نعیم عبعوب کو برطرف کردیا ہے اور ان کی جگہ ڈاکٹر ذکری علوش کو مقرر کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق:''عبعوب کو سزا کے طور پر میئر کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا ہے بلکہ ان پر سوشل میڈیا پر اور بغداد کے مکینوں کی جانب سے یہ الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہیں''۔

انھیں مارچ 2014ء میں ان کے ایک دعوے کی بنا پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بغداد نیویارک اور دبئی سے بھی زیادہ خوب صورت ہے حالانکہ اس وقت شہر میں فرقہ وارانہ بنیاد پر خون ریزی جاری تھی اور امن وامان کی صورت حال ابتر تھی۔

بغداد کے ایک مکین یاسر صفار کا کہنا ہے کہ ''عبعوب ایک مسخرہ تھا، وزیر اعظم حیدرالعبادی کو تو انھیں اپنے دور حکومت کے آغاز ہی میں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے تھا۔ان کے تمام بیانات مضحکہ خیز ہوتے تھے''۔

اب ڈاکٹر ذکری علوش کے تقرر کو عراق میں صنفی امتیاز کی جانب ایک اہم بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات عام ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے گذشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق بارہ سال سے زائد عمر کی ایک چوتھائی عراقی خواتین ناخواندہ ہیں اور صرف چودہ فی صد ملازمتیں یا کام وغیرہ کرتی ہیں۔