.

قصّہ مشہورعالم 'افغان لڑکی' کے نادرا شناختی کارڈ کا!

شربت بی بی اور اس کے بیٹوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے پر چاراہلکار معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی حکام سبز آنکھوں والی مشہور عالم ''افغان لڑکی'' کو نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے جعلی دستاویزات کی بناپر شناختی کارڈ کے اجراء کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس اسکینڈل میں ملوث محکمے کے چار اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

جیوگرافک میگزین نے سبز آنکھوں والی اس لڑکی کی تصویر 1985ءمیں اپنے سرورق پر شائع کی تھی اور اسی سے اس لڑکی نے عالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔ اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی اور اس کا نام شربت گلا بتایا گیا تھا۔ اس کی یہ تصویر شمال مغربی شہر پشاور کے نواح میں واقع افغان مہاجرین کے کیمپ میں فوٹو گرافر اسٹیو میکری نے بنائی تھی اور اس کو بہت سراہا گیا تھا۔

میکری نے سترہ سال کی تلاش کے بعد شربت گلا کا سنہ 2002ء میں سراغ لگا لیا تھا۔ تب وہ ایک افغان گاؤں میں رہ رہی تھی۔ اس کی ایک نانبائی سے شادی ہوئی تھی اور اس کی تین بچیاں تھیں۔ اب تیرہ سال کے وقفے کے بعد شربت گلا سے شربت بی بی بننے والی یہ افغان عورت ایک مرتبہ پھر پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اس نے اپریل 2014ء میں پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع نادرا کے دفتر میں شربت بی بی کے نام سے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے درخواست دی تھی اور وہ کمپیوٹرائز شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی تھی۔اس کی طرح ہزاروں افغان مہاجرین نے خود کو پاکستانی شہری قرار دے کر شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔

نادرا کے ترجمان فائق علی چاچڑ نے بتایا ہے کہ ''وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) شربت گلا کو قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ ان ہزاروں کیسوں میں سے ایک ہے جن کا گذشتہ سال سراغ لگایا گیا تھا اور انھیں ایف آئی اے کو بھیجا گیا تھا۔ اب ہمیں اس کی تحقیقات کا انتظار ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''نادرا کے شعبہ نگرانی نے اگست 2014ء میں شربت بی بی کے کیس کا پتا چلایا تھا اور اس کو اسی ماہ ایف آئی اے کو بھیج دیا گیا تھا''۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے افغان مہاجرین روزانہ ہی جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پاکستان کا قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نادرا کے قیام کے بعد گذشتہ بارہ سال کے دوران افغان مہاجرین کے بنائے گئے تئیس ہزار جعلی شناختی کارڈوں کا سراغ لگایا اور انھیں بلاک کیا گیا ہے۔

نادرا کے پاس رجسٹریشن کے وقت شربت گلا نے بیان کیا تھا کہ وہ یکم جنوری 1969ء کو پشاور میں تالاب روڈ پر واقع علاقے نوتھیا قدیم کے محلہ مست گل میں پیدا ہوئی تھی۔ درخواست کے ساتھ لگائی گئی تصویر میں خاتون کے نقش ونگار وہی ہیں جو میکری کی بنائی تصویر میں نظر آتے تھے لیکن فرق یہ پڑا ہے کہ اس میں وہ ڈھلتی عمر کی عورت ہے اور پرانی تصویر میں وہ لڑکی تھی۔ نادرا کی تصویر میں اس نے سیاہ رنگ کا برقع بھی اوڑھ رکھا ہے جس میں اس کے سر کے بال بالکل بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔

پشاور میں اس کے دیے گئے پتے پر جب ایک مقامی صحافی نے پہنچ کر پوچھ تاچھ کی کوشش کی تو علاقے کے مکینوں نے بتایا کہ وہ یہاں اپنے خاوند کے ساتھ رہتی رہی تھی اور اس کا خاوند ایک بیکری میں کام کرتا تھا لیکن وہ لوگ کوئی ایک ماہ قبل یہاں سے کہیں اور چلے گئے ہیں۔

نادرا کے پشاور دفتر کے ایک سینیر عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شربت بی بی کو شناختی کارڈ کے اجراء کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس خاتون اور اس کے دو بیٹوں رؤف خان اور ولی خان کو ایک ہی دن میں شناختی کارڈ جاری کیے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس خاتون نے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے وہی کاغذات استعمال کیے تھے جو پاکستانی کرتے ہیں لیکن یہ سب جعلی تھے اور اس نے جن دو افراد کو اپنا بیٹا ظاہر کیا ہے،وہ اس کی حقیقی اولاد نہیں لگتے ہیں۔ تاہم نادرا حکام کے مطابق افغان مہاجرین دوسرے رشتے داروں کو بھی اپنے بیٹے ظاہر کرکے شناختی کارڈ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں یہ پریکٹس عام ہے۔

نادرا نے اس افغان عورت کو شناختی کارڈ کے اجراء کی رپورٹس منظرعام پر آنے کے بعد حیات آباد، پشاور میں اپنے دفتر میں تعینات چار اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق معطل کیے جانے والے ان اہلکاروں میں تین مرد اور ایک خاتون ہے اور ان کے خلاف ایک انکوائری کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان معطل اہلکاروں نے مذکورہ تین افراد کو پاکستان کے قومی شناختی کارڈز کے اجراء میں فعال کردار ادا کیا تھا۔ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ نادرا نے شربت بی بی اور اس کے مبینہ دونوں بیٹوں کو جاری کردہ شناختی کارڈز بلاک کر دیے ہیں۔

شربت بی بی کے بارے میں پہلے یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ وہ پشاور میں افغان مہاجرین کے لیے ناصر باغ میں قائم کیمپ میں اپنے خاوند رحمت گل کے ساتھ رہتی رہی تھی۔ اس کی تین بچیاں تھیں لیکن نادرا کے فارم میں اس نے بچیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دو بیٹے ظاہر کیے تھے اور انھیں بھی اس کے ساتھ ایک ہی دن میں تمام قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شناختی کارڈ جاری کر دیے گئے تھے۔