.

داعش کے ہاتھوں تاریخی نوادرات، مجسموں کی تباہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ہتھوڑوں اور کلہاڑوں سے مسلح افراد ساتویں صدی قبل مسیح کے تاریخی نوادرات اور مجسموں کو توڑ رہے ہیں۔داعش کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات اور مجسمے بت پرستی کی علامتیں ہیں۔اس لیے ان کا نام ونشان مٹایا جارہا ہے۔

ویڈیو میں ایک نامعلوم شخص کَہ رہا ہے کہ ''پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مجمسوں اور بتوں کو توڑنے کا حکم دیا ہے اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب ان کے بعد ملکوں کو فتح کیا تو انھوں نے ایسے ہی کیا تھا''۔

تباہ کیے گئے یہ نوادرات اور مجسمے شمالی شہر موصل کے عجائب گھر سے لائے گئے تھے۔اس شہر پر گذشتہ سال جون میں داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کیا تھا اور یہ تب سے ان کا دارالحکومت بھی ہے۔اس عجائب گھر کے ایک ملازم نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تاریخی نوادرات کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔

ویڈیو میں جنگجو پتھر میں ترشے گئے مجسموں کو ہتھوڑے مار مار کے الگ تھلگ کررہے ہیں اور پھر انھیں فرش پر ادھر ادھر بکھیر رہے ہیں۔ویڈیو میں ایک بڑا کمرہ دکھایا گیا ہے جس میں ٹوٹے پھوٹے مجسمے پڑے ہیں اور پس منظر میں ایک گانا چل رہا ہے۔

اس ویڈیو میں داعش کا ایک جنگجو کہ رہا ہے کہ ''آشوری ،الاکدی اور دوسرے کس کی پوجا کیا کرتے تھے ۔یہ لوگ اللہ کے سوا بارش ،زراعت اور جنگ کے خداؤں کی پوجا کیا کرتے تھے اور انھی کو چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے''۔

عراق سے تعلق رکھنے والی ماہر آثار قدیمہ اور لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی کی ایسوسی ایٹ فیلو لیمیا الجیلانی کا کہنا ہے کہ ''جنگجوؤں نے تاریخی ورثے کو ناقابل بیان اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔یہ صرف عراق ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا تاریخی ورثہ تھا۔یہ انمول نوادرات تھے۔یہ بالکل ناقابل یقین ہے۔اب میں خود کوعراقی نہیں کہلوانا چاہتی ہوں''۔

انھوں نے عراق میں تاریخی نوادرات اور مجسموں کی تباہی کو افغانستان کے صوبے بامیان میں سنہ 2001ء میں طالبان کی جانب سے بدھا کے مجمسوں کو بموں سے اڑانے سے تشبیہ دی ہے۔

جیلانی کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے میسوپوٹیمیا دور سے تعلق رکھنے والے علاقوں اور شہروں نینویٰ اور نمرود میں آشوری دور کے مجسموں ہی کو مسمار نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے دوہزار سال قدیم شمالی شہر حطرۃ سے تعلق رکھنے والے مجسموں کو بھی تباہ کردیا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں قدیم مشرق قریب کی تاریخ کی پروفیسر ایلنر رابسن نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ حطرہ اور نینویٰ سے سے تعلق رکھنے والے مجسموں کو مسمار کردیا گیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دکھائے گئے بعض نوادرات دراصل ان کی ہوبہو جدید نقلیں ہیں اور اصل نہیں ہیں۔

یونیسکو کے عراق دفتر کے ڈائریکٹر ایکسل پلیتھ نے ویڈیو پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس میں دکھائے گئے تباہ شدہ مجسموں اور نوادرات کی ابھی تصدیق ہونا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ داعش نے گذشتہ سال جون میں موصل پر قبضے کے بعد تاریخی ورثے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور دراصل یہ انسانی تاریخ کی شناخت کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔

پلیتھ نے بتایا کہ یونیسکو عراقی حکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر داعش کے کنٹرول والے علاقوں سے تاریخی نوادرات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کام کررہا ہے اور نیلام گھروں کو بھی خبردار کردیا گیا ہے کہ وہ چوری شدہ نوادرات پر نظر رکھیں۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تاریخی نوادرات ہی کو تباہ نہیں کررہے ہیں بلکہ انھوں نے صوفیہ اور علماء کے متعدد مزارات اور اہل تشیع کی عبادت گاہوں کو بھی ڈھا دیا ہے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک اور ویڈیو جاری کی تھی جس میں کتابوں کے ایک ڈھیر کو جلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔