.

’’داعشی قصاب‘‘ کے دور طالب علمی کی ویڈیو منظرعام پر آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی میں ملوث گروپ دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ سے وابستہ کویتی نژاد برطانوی جنگجو محمد اموازی نے داعش کے ہاں یرغمال بنائے گئے افراد کے سر قلم کرنے سے ایسی عالمی شہرت حاصل کی کہ اب وہ عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا خاص مرکز بنا ہوا ہے۔

’’داعشی قصاب‘‘ کے لقب سے مشہور ہونے والے محمد اموازی کی دور طالب علم کی ایک پرانی فوٹیج منظرعام پر آئی ہے جس میں اسے اسکول میں دوستوں کے ساتھ فٹبال سے کھیلتے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق محمد اموازی کے دور طالب علمی کی ویڈیو برطانوی ٹی وی News 4 پر نشر کی گئی۔ فوٹیج سنہ 2004ء میں اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ لندن میں واقع Quintin Kynstonاکیڈمی کے ایک گرائونڈ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسکول میں ہونے والے وقفے کے دوران فٹ بال کھیل رہا ہے۔ یہ ویڈیو اس دور کی ہے جب محمد اموازی نے ابھی شدت پسندانہ نظریات اختیار نہیں کیے گئے تاہم بعد ازاں وہ ’’مشرفہ بہ داعش‘‘ ہوا اور تنظیم نے اس کے ہاتھوں جنگی قیدی بنائے گئے دسیوں افراد کے سرقلم کرائے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اس ویڈیو فوٹیج کے مطابق محمد اموازی کوئی 15 سال کا ہے۔ تب وہ برطانیہ کے ایک موسیقی کلب S Club 7 کا بھی دلدادہ تھا اور ساتھ ہی مانچسٹر یونائیڈ فٹ بال کلب کا بھی پرزور حامی شمار کیا جاتا تھا۔ اس نے متعدد مرتبہ بڑا ہو کر فٹ بالر بننے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ تاہم بڑا ہو کر اس نے فٹبالر بننے کے بجائے’’قصاب‘‘ کا پیشہ اختیارکیا اور شام میں یرغمال بنائے گئے مخالفین کی گردنیں اڑانے لگا۔

کیمرے سے بچنے کی کوشش

برطانوی ذرائع ابلاغ میں پچھلے کچھ عرصے سے تواتر کے ساتھ محمد اموازی اور اس کے دیگر ان شدت پسند ساتھیوں کے بارے میں رپورٹس منظر عام پر آ رہی ہیں جو اموازی کے ساتھ کنسٹن اکیڈیمی میں زیرتعلیم رہ چکے ہیں اوراب داعش یا کسی دوسرے جنگجو گروپ میں شامل ہیں۔

حال ہی میں اخبار ’’ٹائمز‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ داعش کے ساتھ اسی اکیڈمی میں پڑھنے والے تین دیگرطالب علم بھی شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کے بعد شام یا صومالیہ چلے گئے ہیں۔ تاہم اخبار نے ان کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس بارے میں جب اسکول کی سابق پرنسپل سے پوچھا گیا تو انہوں نے ٹائمزکے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ اموازی کے دور کا کوئی اورطالب علم شدت پسند گروپوں میں شامل نہیں ہوا ہے۔

’گو شوٹر‘ نامی سابق پرنسپل نے ’’بی سی سی‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد اموازی کے طالب علمی دور کے بعض اہم گوشوں سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے تازہ ویڈٰیو فوٹیج کی بھی تصدیق کی جس میں اموازی کو فٹبال کھیلتے دکھایا گیا ہے۔ اسکول کی سابق پرنسپل کا کہنا ہے کہ محمد اموازی ایک خاموش، محنتی اور پرسکون طبع کا مالک لڑکا تھا تاہم ایسے لگتا ہے کہ اسے اس کے ساتھیوں نے بہت تنگ کیا ہوگا۔ اس کے بارے میں اسکول کی انتظامیہ کو کبھی کوئی تشویش نہیں ہوئی تھی۔ بعض اوقات اس کی اسکول کی لڑکیوں کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوجاتی تھی تاہم اس نے شدت پسندی کا راستہ اسکول میں نہیں بلکہ وہاں سے نکل جانے کے بعد اختیار ہوگا۔

اسکول میں بنائی گئی یہ ویڈیو فوٹیج اموازی کے طالب علمی دور کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ شرمیلا سا لڑکا دکھائی دیتا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ فوٹیج کسی طالب علم نے بنائی تھی یا اسکول کے عملے میں سے کسی شخص نے تاہم ویڈیو میں ایک جگہ محمد اموازی کو محسوس ہوا کہ کیمرے کا رخ اس کی طرف ہے تو اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا تاہم کیمرے نے اس کا تعاقب جاری رکھا جس کے بعد اموازی نے اپنے بازو سے اپنا چہرہ مکمل طورپر چھپا لیا تھا۔ شاید وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے ایسا کرنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد یہ ویڈیو کوئی گیارہ سال صیغہ راز میں رہی تا آنکہ محمد اموازی کی جب شام میں داعشی قصاب کے طورپر شناخت ہوئی تو یہ ویڈیو منظرعام پر لائی گئی ہے۔