.

سعودی عرب :برسرعام ''خودکشی'' کی خوب تشہیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں ایک پُل پر پھندے سے لٹکے ہوئے شخص کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر کی جارہی ہے لیکن حقیقت میں یہ کسی شخص نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ کسی نے انسان کا پتلا بنا کر اس کو پھندے کے ساتھ لٹکا دیا ہے اور اب سعودی حکام اس شخص کی تلاش میں ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظرآنے والا پتلا ہے ،اس کو بنانے والے کا کچھ پتا نہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ ''جعلی خود کشی''بھی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔

عربی روزنامے الحیات میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق فروری میں ساحلی شہر جدہ میں بھی اس طرح کا واقعہ رونما ہوا تھا۔سوشل میڈیا کے صارفین نے ایک لڑکی کے پتلے کی فوٹیج کی تب بہت تشہیر کی تھی۔اس میں ایک لڑکی کو ایک پل پر سے گرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ کسی نے عورت کا پتلا بنا کر لٹکا دیا تھا اور اس کا مقصد راہ گیروں کو یہ باور کرانا تھا کہ یہ خودکشی کرنے والی کسی لڑکی کی لاش ہے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ البریدہ شہر میں بھی پیش آیا تھا اور وہاں بھی ایک پل سے ایک پتلے کو رسے کی مدد سے نیچے لٹکا دیا گیا تھا۔اس پتلے کو سعودی عرب کا روایتی عربی لباس پہنایا گیا تھا۔

الحیات نے ایک ماہر نفسیات کے حوالے سے لکھا ہے کہ ''اس طرح پُتلے بنانے اور انھیں پھندے پر لٹکانے والے افراد دراصل دوسروں کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان کا ایک مقصد لوگوں کو مختلف انداز میں تفریح طبع کا سامنا مہیّا کرنا بھی ہوسکتا ہے۔