.

کیا برطانوی اسکولوں میں عربی پڑھائی جانی چاہیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برٹش کونسل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں برطانیہ میں اسکولوں میں عربی زبان کو متعارف کرانے پر زوردیا ہے تاکہ ملک میں اس زبان کو نہ جاننے والوں کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔اس تجویز پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔بعض حلقوں نے اس کی حمایت کی ہے جبکہ برطانیہ کی قومی پارٹی نے اس تجویز پر کڑی تنقید کی ہے۔

برٹش کونسل 2013ء سے قطر فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر برطانوی اسکولوں میں عربی کی تدریس کے لیے کام کر رہی ہے۔العربیہ نیوز میں منگل کو عربی کی تدریس سے متعلق ایک تحریر شائع ہوئی تھی۔اس کے مصنف بحرین میں برٹش کونسل کے ڈائریکٹر ٹونی کالڈر بنک ہیں۔انھوں نے لکھا ہے:''یہ بہت اہم ہے کہ عربی بطور زبان برطانوی اسکولوں میں پڑھائی جائے''۔

انھوں نے لکھا ہے کہ''عربی دنیا کی عظیم زبانوں میں سے ایک ہے۔چالیس کروڑ سے زیادہ لوگ یہ زبان بولتے ہیں۔اس نے سائنس اور ثقافت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔قبل از اسلام کی شاعری اور اسلام کے سنہری دور کے فلاسفہ اور ریاضی دانوں سے لے کر نوبل انعام یافتہ مصنف نجیب محفوظ کے ناولوں تک کی زبان عربی ہی رہی ہے''۔

کالڈر بنک نے لکھا ہے کہ ''عربی اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے اور اس کو حال ہی میں برطانیہ کی مستقبل کی دس اہم زبانوں میں سے ایک شمار کیا گیا ہے''۔ان کے نزدیک''عربی زبان سیکھنے والوں کے لیے سفارت کاری ،فوج اور تیل اور بنک کی صنعت میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا''۔

لیکن برطانیہ میں ہر کوئی عربی زبان سے متعلق کالڈر بنک جیسے خیالات نہیں رکھتا ہے۔دائیں بازو کی سیاسی جماعت برٹش نیشنل پارٹی نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس نظریے کی شدید مخالف ہے۔اس جماعت کی جانب سے جاری کردہ ایک مضمون میں تنقیدی انداز میں کہا گیا ہے کہ ''جی ہاں عربی اسلامی برطانیہ میں مفید رہے گی جہاں قرآن مجید بلا شبہ عربی زبان میں پڑھا جائے گا۔اسلام ہمارے معاشرے میں عدم مطابقت کا شکار ہے جبکہ عوام کی اکثریت خواب غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ایسی غفلت،جس سے وہ ایک دن اپنی قوم کو کھودیں گے''۔

مذکورہ مضمون میں ڈپٹی ہیڈ ٹیچر ہارون اصغر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عربی کی کلاسوں سے طلبہ میں ابتدائی عمر سے ہی اس زبان کے لیے محبت پیدا ہوگی لیکن اس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا برطانوی عربی زبان سیکھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ برطانوی والدین کی اکثریت کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے کہ ان کے بچوں کو پرائمری یا ثانوی کی سطح پر عربی پڑھائی جائے۔

العربیہ نیوز نے جب دائیں بازو کی جماعت برطانوی انڈی پینڈینس پارٹی سے اس موضوع پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا تو اس کے ترجمان کا ایک جوابی ای میل میں کہنا تھا کہ ''وہ صرف برطانوی میڈیا کے ذرائع ہی کو اس طرح کے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں اور آپ سے کوئی بات نہیں کریں گے''۔

کونسل برائے عرب، برطانیہ مفاہمت کے ڈائریکٹر کرس ڈائیل نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے عربی کی تدریس کے فروغ کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عربی سیکھنے میں ممکن ہے کہ فرانسیسی زبان سے زیادہ وقت لگے کیونکہ فرانسیسی ایک یورپی زبان ہے اور عربی غیر یورپی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ''عربی اقوام متحدہ کی ایک زبان ہے۔یہ دنیا کے ایک بڑے جغرافیائی علاقے میں بولی جاتی ہے۔اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی ایک مذہبی اہمیت بھی ہے۔یہ مسلمانوں کی زبان ہے،ان کی الہامی کتاب قرآن کی زبان ہے۔مزید برآں مشرق وسطیٰ ہماری اگلی دہلیز ہے ۔اس لیے عربی کی تفہیم دراصل ایک اور ثقافت کی جانکاری کا دروازہ بھی کھولتی ہے''۔

برطانوی محکمہ تعلیم کی خاتون ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ''زبان کی تعلیم پرائمری اسکول کے نصاب کا لازمی حصہ ہے لیکن زبان کا انتخاب اختیاری ہے، لازمی نہیں ہے اور اس بات کا فیصلہ بھی اسکول کرتے ہیں کہ وہ کونسی زبان پڑھائیں گے''۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ''کسی غیر ملک کی زبان کو بولنے اور لکھنے کی صلاحیت کے حامل افراد کے لیے نہ صرف ملازمت کے مواقع بڑھ جاتے ہیں بلکہ انھیں دوسرے ملکوں اور ثقافتوں کے بارے میں جان کاری کا موقع بھی میسر آتا ہے''۔