.

سابق صدر علی صالح نے یمن کا شیرازہ کیسے بکھیرا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں پچھلے چند ماہ سے جاری کشیدگی جو اب ایک جنگ کی شکل اختیار کرچکی پر عالمی ذرائع ابلاغ بھی گہری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ یمن جن حالات سے آج دوچار ہوا ہے اس کے پیچھے بعض دیگر نادیدہ قوتوں کے ساتھ ساتھ سابق صدر علی عبداللہ صالح کو بھی قصور وار قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے 32 سال تک ملک کو افراتفری، انارکی، جنگ و جدل اور بدعنوانی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اقتدارسے علاحدگی کے بعد وہ اپنے سابقہ حریف حوثیوں کے ساتھ مل کر ملک ہی کوتوڑنے کی سازشیں کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی اخبار’’ڈیلی گراف‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں سابق صدر علی صالح کے ہاتھوں یمن کو پہینچنے والے نقصانات کا ایک رپورٹ میں احاطہ کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ علی عبداللہ صالح یمن کے لیے اس وقت بھی نقصادن دہ ثابت ہوئے جب وہ تین عشروں تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بنے رہے اور سنہ 2011ء میں اپنے خلاف اٹھنے والی عوامی بغاوت اور اس کے نتیجے میں اقتدار سے سبکدوشی کے بعد ایک نئے انداز میں انہوں نے یمن کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کی۔

برطانوی صحافی رچرڈ سپنسر کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں[علی عبداللہ صالح کے دور میں] کئی سال تک یمن کو مغربی ممالک اور دوسرے اتحادیوں کی جانب سے اسلحہ اور مالی امداد ملتی رہی۔ یہ امداد یمن کو القاعدہ کی سرکوبی کے لیے دی جاتی تھی۔ سنہ 2011ء میں جب علی عبداللہ صالح کو اندازہ ہوا کہ ’عرب بہاریہ‘ کے تھپیڑے اب ان کے اقتدار کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں توانہوں نے جنوبی ضلع ابین القاعدہ کو دے کر اس کے ساتھ مفاہمت کی بھی کوشش کی۔ یہ سب کچھ اپنے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کو ملک کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت کرنے کی ایک ’بھونڈی ‘ کوشش تھی۔

القاعدہ رہ نما سے علی صالح کی ملاقات

رپورٹ میں سلامتی کونسل کی جانب سے جاری ایک دستاویزی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں علی عبداللہ صالح نے ’’جزیرۃ العرب‘‘ میں سرگرم القاعدہ کے سربراہ سامی دیان سے صنعاء میں اپنے دفتر میں بلا کر ملاقات کی۔ یہ وہی ایام تھے جب ملک کے طول و عرض میں علی صالح کی آمریت کے خلاف عوام سڑکوں پر تھے۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کمانڈر سے ملاقات کے موقع پر اس وقت کے وزیر دفاع محمد ناصراحمد بھی موجود تھے۔ ملاقات میں القاعدہ لیڈر نے مطالبہ کیا کہ جنوبی یمن میں عدن کے قریب واقع ابین گورنری سے یمنی فوج کو واپس بلا لیا جائے اور وہاں پر القاعدہ کی عملداری کو تسلیم کیا جائے۔ ابین آبی راہ داری ہونے بدولت اہم تزویراتی اہمیت کا حامل ساحلی علاقہ ہے اور صدر صالح نے القاعدہ کی تجویز قبول کرکے یہ علاقہ شدت پسندوں کے سپرد کردیا۔

مئی 2011ء میں علی صالح کے خلاف عوامی احتجاج نے زور پکڑا تو مرکزی حکومت کے کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ صوبوں اور گورنریوں کی مقامی حکومتیں بھی کمزور پڑنا شروع ہوگئیں۔ اس کا فوری اور پہلا فائدہ القاعدہ کو پہنچا اور اس نے ابین گورنری پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد آس پاس کے علاقوں کی طرف بھی پیش قدمی شروع کردی۔ مغربی فنڈنگ کی مدد سے یمن میں انسداد دہشت گردی کا ادارہ اپنی کاکردگی دکھانے میں ناکام رہا اور پراسرار انداز اس ادارے کے سربراہ جو صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے یحیٰ صالح تھے کو ہٹا دیا گیا۔

احتجاج کے بعد جب علی صالح کو خلیجی ممالک کے وضع کردہ فارمولے کے تحت اقتدار بادل نخواستہ اپنے نائب [منصور ھادی] کو سپرد کرنا پڑا ۔اقتدارکی تبدیلی علی صالح کے لیے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا مشکل تھی۔ اس کے بعد علی صالح نے اہل تشیع مسلک کے حوثیوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک کی حکومت کو ناکام کرنے کے لیے سازشیں شروع کردیں۔ یہ وہی حوثی تھے جو اس سے قبل خود ان کے خلاف بھی کئی جنگی لڑ چکے تھے۔ یہاں چونکہ دونوں کا مفاد ایک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں حکومت وقت کے خلاف متحد ہوگئے۔ حوثیوں سے اتحاد کرکے علی عبداللہ صالح کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ ملک چونکہ اس وقت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نرغے میں ہے۔ اس لیے وہ سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کراس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کی مدد کررہے ہیں۔

بعد کے واقعات نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ صدر علی صالح کا اپنے سابقہ حریفوں کے ساتھ اتحاد دراصل ملک کو توڑنے، انتشار پھیلانے اور اس کا شیرازہ بکھیرنے کی سازش تھی جس میں حوثیوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا۔

اس وقت یمن جن گھمبیر حالات سے گذر رہا ہے اس میں سابق صدر علی عبداللہ صالح، ایران اور اس کے حامی حوثی قبائل بنیادی قصور وار ہیں۔ جنہوں نے دانستہ طور پر یمن کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی۔

قومی خزانے کی لوٹ مار

عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے تازہ اعدادو شمار کے مطابق معاشی اعتبار سے یمن ایک غریب ملک ہے جس کی 54 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔ اس غریب ملک کے سربراہ ہوتے ہوئے علی صالح نے عوام کا خون نچوڑنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ قومی خزانے کی لوٹ مار سے خوب ’مال‘ بنایا۔ تین عشروں تک ملک میں صرف علی عبداللہ صالح، ان کےخاندان اور گنے چنے چند حاشیہ نشینوں کا راج رہا۔ اہم عہدوں پر بھی صالح ہی کی فیملی قابض رہی۔ اندرون اور بیرون ملک مقیم علی صالح کے مقربین کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

ایک اندازے کے مطابق علی عبداللہ صالح نے قومی خزانے پرہاتھ صاف کرتے ہوئے 32 سے60 ارب امریکی ڈالر کے مساوی رقم کی لوٹ مار کی۔غریب عوام سے ٹیکسوں کی شکل میں بٹوری گئی بھاری رقوم کا ایک بڑا حصہ جعلی ناموں کے ساتھ بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ اندرون اور بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں خرید کی گئیں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق علی عبداللہ صالح نے قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم سے قبائل کی وفاداریاں خرید نے کی کوشش کی۔ ایک سعودی ماہری معیشت کا کہنا ہے کہ صدر علی صالح کی ذاتی ملکیتی رقم پندرہ ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی۔

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثیوں علی صالح کی بغاوت کے خلاف فوجی آپریشن’’ فیصلہ کن طوفان‘‘ شروع ہونے کے بعد سابق صدر کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں معاف کردیا جائے تو وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔