.

اوباما کی اعلی سیکیورٹی مشیر ایرانی لابسٹ نکلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ایرانی نژاد مشیر سحر نوروز زادہ واشنگٹن میں ایرانی مفادات کے حق میں لابنگ کرتی رہی ہیں۔

گذشتہ منگل کو وائٹ ہاٶس نے صدر براک اوباما کی نیوز کانفرنس میں شریک ان اعلی امریکی عہدیداروں کے نام شائع کئے تھے کو ایران کے چھے عالمی طاقتوں سے جوہری معاملات پر ہونے والے مذاکرات کی تفاصیل سے براہ راست آگاہ تھے۔ ان میں ایک نام ایرانی نژاد سحر نوروز زادہ کا بھی تھا جو ماضی میں نینشل کونسل آف ایرانی امریکنز المعروف 'نایاک' کے ساتھ وابستہ رہی ہیں۔ اس کونسل کے بارے میں ایرانی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ انجمن امریکا میں ایرانی مفادات کی ترویج کے لئے کام کرتی ہے۔

امریکن اخبار 'ڈیلی بیسٹ' نے ایران کے عالمی طاقتوں سے جوہری مذاکرات کے حقیقت سے آگاہ جن اعلی امریکی عہدیداروں کے نام شائع کئے ان میں سحر نوروز زادہ سمیت متعدد اہلکار شامل تھے۔ سحر نوروز امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں ایرانی امور کی ڈائریکٹر ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق وہ واشنگٹن میں ایرانی مفادات کے لئے سرگرم لابی کی اہم رکن رہ چکی ہیں۔

امریکی ویب پورٹل برٹ بارٹ نیوز نے متعدد کالمز کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انہیں سحر نوروز زادہ نے 'نایاک' کے پلیٹ فارم سے شائع کرایا۔ اس فورم پر ایرانی حکومت کے مفادات کے لئے کام کرنے کا الزام ہے۔

ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ویب پورٹل 'سبیدہ دم' نے 'اوباما کا نیا سکینڈل' کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں سوشل میڈیا فورم لینکڈ ان سے منقول معلومات کے حوالے سے بتایا ہے کہ نوروز زادہ سنہ دو ہزار پانچ میں امریکی وزارت دفاع میں تجزیہ کار کے طور پر کام کرتی تھیں جہاں ملازمت کے دوران انہوں نے سنہ دو ہزار چودہ میں امریکی وائٹ ہاٶس اور خصوصا امریکن نیشنل سیکیورٹی کونسل سے تال میل بڑھائی۔

ایران امریکن نینشل کونسل 'نایاک' امریکا میں سرگرم ایک ایسی غیر منافع بخش انجمن ہے کہ جو امریکی قانون کے فریم ورک میں ایرانی نژاد امریکنز کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر کام کرتی ہے۔ اس مقصد کے لئے 'نایاک' نے واشنگٹن میں متعدد فورمز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جس میں میدان سیاست کے سرکردہ نام شریک ہوئے بالخصوص وہ سیاستدان جو ایران کے حوالے سے امریکا کی پالیسی سازی میں اہمیت کے حامل ہیں۔

ایران کی بدنام زمانہ تنظیم مجاہدین خلق کے حامی ایرانی نژاد امریکن صحافی حسن داعی الاسلام نے سنہ 2007ء کو اریرونا میں 'نایاک' کی کانفرنس کے موقع پر تنظیم پر اسلامی جمہوریہ ایران کی بغل بچہ تنظیم ہونے کے کے ناطے تہران سے مالی امداد لینے کا الزام عاید کیا تھا۔ اس وقت 'نایاک' کے سربراہ ٹریٹا پارسی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

کیری کا ایرانی داماد

ایک ملتی جلتی پیش رفت میں جان کیری کے وزیر خارجہ مقرر ہونے کے موقع پر امریکی پریس میں ان کی بیٹی فانیسا کیری کی ایرانی ڈاکٹر بھروز والا ناھید سے شادی کی خبریں بھی نمایاں طور پر شائع ہوتی رہی ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دولہا اور دلہن شادی سے پہلے سنہ 2009ء میں ایران گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی بیٹی کی ایرانی ڈاکٹر سے شادی کی خبروں کے بعد بعض امریکی اور ایرانی اپوزیشن کے حلقوں نے اہم امریکی عہدیدار کی ایران سے رشتہ داری پر تشویش ظاہر کی۔ کیری کے دورہ ایران سے متعلق خواہش اور ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے اور تہران سے اس معاملے پر مذاکرات جاری رکھنے پر اصرار کو اعلی امریکی عہدیدار کی داماد نوازی سے بھی تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔