.

چار دہائیوں تک دنیا میں مسلم مسیحی آبادی برابر ہوجائے گی: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سٹڈی کے مطابق دین اسلام اگلے چالیس سالوں میں دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلتا مذہب ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے چالیس سالوں میں مسلمانوں کی تعداد پوری دنیا میں موجود مسیحیوں کے برابر ہوجائے گی۔

'پیو' ریسرچ سنٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ 2050ء تک یورپ میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا دوگنا ہوجائے گی اور وہ پورے براعظم کی آبادی کے 10 فیصد حصے پر مشتمل ہوں گے۔ 2010ء میں یورپ کی آبادی پورے یورپ کی 6 فیصد [43 ملین] آبادی بنتی تھی۔

سنہ 2010ء کےہی اعداد و شمار کے مطابق عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب تھا جس کے 2٫2 ارب پیروکار تھے جو کہ دنیا کی 6٫9 ارب آبادی کے 31 فیصد پر مشتمل تھے۔ اس کے علاوہ اسلام 1٫6 ارب پیروکاروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود تھا جو کہ پوری دنیا کی آبادی کا 23 فیصد بنتا ہے۔

مگر رپورٹ کے مطابق اگر حالیہ اعداد وشمار کے مطابق ہی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے تو 2050ء تک دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 73 فیصد بڑھ کر 2٫8 ارب پیروکاروں جبکہ عیسائیت کے پیروکاروں کی تعداد بڑھ کر 2٫9 ارب تک پہنچ جائے گی۔ یہ ممکنہ برابری تاریخ میں پہلی بار رقم ہوگی جبکہ 2070 میں مسلمانوں کی تعداد بالاخر عیسائیوں سے بڑھ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق 2050ء میں انڈونیشیا مسلم آبادی والا سب سے بڑا ملک برقرار نہیں رہے گا بلکہ نئے اعداد وشمار کے مطابق یہ اعزاز بھارت کو حاصل ہوگا۔

ادھر شمالی امریکا میں اگرچہ مسلمان آبادی کے ایک چھوٹے حصے پر ہی مشتمل ہیں مگر اسلام امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا اور یہ امریکا کی کل آبادی کا 2٫1 فیصد پر مشتمل ہوگا۔ اس نئے اعدادو شمار کے مطابق اسلام امریکا میں یہودیت کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

جب کہ امریکا ہی میں عیسائیت سب سے زیادہ پیروکاروں کا مذہب ہوتے ہوئے بھی 2050ء تک آبادی کے 77 فیصد سے کم ہوکر 66 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کا مذہبی خاکہ تیزی سے بدلنے کی وجوہات میں زچگی کی تعداد اور دنیا کے بڑے ادیان میں نوجوانوں کی تعداد اور تبدیلی مذہب بھی شامل ہیں۔

کئی اعداد وشمار اور تجزیوں کے باوجود رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان اعداد وشمار میں کئی وجوہات کی وجہ سے تبدیلی آسکتی ہے جن میں قدرتی آفات، ہجرت، جنگ، انقلاب وغیرہ شامل ہیں۔