.

ایران نے ایردوآن کی آمد پر یا حسین کے پرچم لہرا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر ان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا گیا، مگر گارڈ آف آنر کے دوران پاسداران انقلاب کے خصوصی دستے نے خلاف معمول ’’یا حسین‘‘ کے نعروں پر مبنی سرخ پرچم لہرانے کا مظاہرہ کیا۔ کسی دوسرے سربراہ مملکت کی آمد پر ان پرچموں کے ساتھ استقبال کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی’’تسنیم‘‘ نے گارڈ آف آنر کے دوران لی گئی دو تصاویر شائع کی ہیں۔ ان تصاویر میں دو فوجی اہلکاروں کو ہاتھوں میں سرخ پرچم تھامے دکھایا گیا ہے جن پر’’یاحسین‘‘ کے الفاظ درج ہیں۔ یہی منظر ایرانی نیوز چینل’خبر‘ نے بھی دکھایا ہے۔

مبصرین کے خیال میں ایران کی جانب سے ترک صدر طیب ایردوآن کی آمد پران کے اعزاز میں پیش کیے گئے گارڈ آف آنر کے دوران ’’یاحسین‘‘ کے نعروں پر مبنی سرخ پرچم دکھانے کا مقصد ترکی کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایران پورے عالم اسلام میں اہل تشیع کا پرچم لہرانے کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ترکی اور ایران کےدرمیان علاقائی مسائل پر کشیدگی پائی جا رہی ہے متنازعہ پرچم لہرانے سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ترک صدر کی تہران آمد سے قبل ایرانی حکومت کے کئی عہدیداروں اور ارکان شوریٰ نے ان کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ترک صدر کو تہران آنے سے منع کر دے کیونکہ ترکی کی جانب سے شام، عراق اور یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف سعودی عرب کے ’’فیصلہ کن طوفان آپریشن‘‘ کی حمایت ایران کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ترک صدر طیب ایردوآن نے ایران کو سخت لہجے میں پیغام دیا تھا کہ وہ شام، یمن اور عراق میں اپنی ہرقسم کی مداخلت بند کرتے ہوئے وہاں پر موجود اپنے ’کارندوں‘ کو نکالے اور عرب ملکوں کی خود مختاری اور وحدت کا احترام کرے۔

ترک خبر رساں ایجسنی’’اناطولیہ‘‘ کے مطابق صدر ایردوآن کے دورہ تہران کے موقع پر ان کے ہمراہ حکومت کا اعلیٰ اختیاراتی وفد بھی موجود تھا، جن میں وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو، وزیراقتصادیات نہاد زیبکی، وزیر تجارت و کسٹم نور الدین جانکلی، وزیر برائے توانانئی و قدرتی وسائل تانر یلدز، وزیر ثقافت وسیاحت عمر جلیک اور وزیر برائے ترقی جود یلماز شامل تھے۔