عراق میں شہری کا حکومت کے خلاف نیم برہنہ احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں حکومت کی بدعنوانی اور معاشرتی جرائم کے خلاف عوامی احتجاج تو اکثر ہوتا رہتا ہے مگر ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک معمر شخص کو نیم عریاں حالت میں ’ریاستی مفاسد‘ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے دیکھا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور ٹیوٹر پر ایک احتجاجی مظاہرے کی تصویر کا بڑا چرچا ہے جس نے عوام و خواص سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا دی ہے۔

احتجاج کرنے والے شہری نے اپنے عریاں جسم پر ان تمام برائیوں کے نام لکھ رکھے ہیں جو معاشرے میں فساد کا موجب بن رہے ہیں۔ وہ اسی حالت میں قومی پرچم اٹھائے کمال بے نیازی کے ساتھ سڑک پر مارچ کرتا ہے۔ احتجاج کے اس انوکھے انداز سے عراقی عوام کے اندر پائی جانے والی مایوسی کی عکاسی ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا پر احتجاج کے اس منفرد طریقے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ نیم عریاں احتجاج کرنے والے عراقی کا آبائی تعلق جنوبی بغداد کی الدیوانیہ گورنری سے ہے۔ اس کی اکلوتی بیٹی ہے، جو اس وقت گریجوایشن کر رہی ہے، امتیازی گریڈ حاصل کرنے کے باوجود وزارت تعلیم کے سرکاری وظیفے سے محروم ہے۔ اس کےوالد کی مایوسی کی ایک یہ وجہ بھی بتائی جاتی ہے۔

ایک مقامی سماجی کارکن ابو حارث الیاسری کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے شہری نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ الدیوانیہ گورنری میں محکمہ تعلیم کے دفاتر کے ڈیڑھ ماہ تک مسلسل چکر لگائے مگر ان کی بچی کو وظیفہ نہیں مل سکا۔

الیاسری نے احتجاج کرنے والے عراقی شہری کا نام یاسین بتایا ہے۔ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی اس کی نیم عریاں تصویر کے ساتھ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بوڑھے یاسین کے پاس حکومت کی نااہلی کے خلاف احتجاج کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

اس نے منفرد مگر افسوسناک انداز میں ارب اختیار کو اپنے مسئلے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ احتجاجی شہری یاسین کی بیٹی کی کلاس فیلوز نے رشوت کے ذریعے وظیفہ حاصل کیا ہے لیکن وہ چونکہ رشوت نہیں دینا چاہتا یہی وجہ ہے کہ ابھی تک اس کی بیٹی حکومتی توجہ سے محروم ہے۔

عراق کے صحافی اور تجزیہ نگار حامد المالکی کا کہنا ہے کہ جب مستحق طلباء کے وظائف بھی سر بازار بکنے لگیں اور مستحق کو اس کا حق نہ ملے تو احتجاج کسی بھی شہری کا آخری راستہ ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات پرحیران نہیں ہونا چاہیے کہ یاسین نے اپنی بیٹی کے حق کے لیے انوکھا احتجاج کیا ہے۔ کل کو عراق بھرکے نصف والدین یہی طریقہ اختیار کریں تو ہمیں اس پربھی حیرت نہیں ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں