استنبول: آیا صوفیا میں 85 سال بعد تلاوت قرآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک مسلم عالم دین نے 85 سال میں پہلی بار استنبول کے شہرہ آفاق مقام آیا صوفیا پر قرآن کی تلاوت کی ہے۔ آیا صوفیا اس سے پہلے چرچ اور مسجد کے طور پر استعمال ہونے کے بعد آج کل ایک میوزیم ہے۔

آیا صوفیا کو 1930 کی دہائی میں جدید ترکی کے سیکولر بانیوں نے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا اور سیکولر ترک اس عمارت کو دوبارہ اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے اقدامات سے خبردار تھے۔

اس عمارت میں ایک نئی نمائش کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کا عنوان 'نبی کی محبت' رکھا گیا تھا اور قرآن کی تلاوت اس تقریب کے افتتاح کے موقع پر کی گئی تھی۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولیہ کے مطابق اس مقام پر تلاوت کرنے والے قاری علی تل انقرہ میں احمد حمدی اکسکی کے امام ہیں۔

اس تقریب میں ترکی کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی جن میں ملک کے مذہبی امور کی ایجنسی 'دیانت' کے سربراہ محمد غورمز بھی شامل تھے۔

اس نمائش میں دین اسلام کے پیغمبر محمد سے محبت کے اظہار کے لئے کئے گئے خطاطی کے کام کو دکھایا گیا ہے اور یہ نمائش 8 مئی تک چلتی رہے گی۔

اس بے مثال عمارت کو چھٹی صدی عیسوی میں عیسائی بازنطینی سلطنت نے بطور چرچ تعمیر کیا تھا اور یہ قسطنطیہ کے پیٹریآرک کی نشست تھی۔

جب عثمانی فورسز نے محمد دوئم کی زیر سربراہی 1453ء میں شہر کو فتح کیا تھا تو انہوں نے آیا صوفیا کو فوری طور پر مسجد میں تبدیل کردینے کا حکم دیا۔ اسی عمارت کے اردگرد کے مینار تعمیر کرکے اسے مسجد بنا دیا گیا۔

یہ عمارت 1930 کی دہائی تک مسجد کے طور پر کام کرتی رہی مگر اس دہائی میں عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد آنیوالی نئی ترک حکومت نے حکم دیا کہ یہ عمارت ایک میوزیم میں تبدیل کر دی جائے گی اور اس میں ہر کسی کو آنے کی اجازت ہوگی۔

مگر اسلام پسند جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی [آق] کے 2002ء میں اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کے بعد سے آیا صوفیا کو دوبارہ ایک مسجد میں تبدیل کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں