پاکستانی سمیت درجن بھرمردوں سےشادیاں رچانے والی ’میڈم‘!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دُنیا کے مختلف ملکوں میں مردوں کا ایک سے زیادہ شادیوں کا چلن توعام ہے مگرایک ہی وقت میں درجن بھر مردوں کے ساتھ کسی خاتون کی شادی کا واقعہ یقیناً معاصر تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ جی ہاں! امریکا میں ایک ایسی ہی’’میڈم‘‘ موجود ہے جس نے پاکستانی، مصری، بنگالی اور کئی دوسرے ملکوں کے 10 مردوں کے ساتھ شادیاں رچا رکھی تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی دنیا کی اس منفرد خاتون کے بارے میں امریکی میڈیا سے معلومات موصول ہوئی ہیں۔ 39 سالہ موصوفہ ’’لیانا بارینٹوس‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ اس نے ایک سال میں چھ مردوں سے شادی کی۔ یوں وہ بہ وقت آٹھ مردوں کی ’بیوی‘ بن کر رہنے لگی۔ پچھلے سال امریکا میں اس کی کثرت ازدواج کا بھانڈہ پھوٹا تو پولیس نے حراست میں لے کر اس کے خلاف اس غیر فطری رشتہ ازدواج کے حوالے سے مقدمات بھی قائم کرنا شروع کیے۔ گذشتہ جمعہ کو اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اسے چار سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لیانا نے سب سے پہلی شادی پانچ نومبر1999ء کو محمد جربریل نامی ایک مسلمان مرد کے ساتھ کی اور اس کی آخری شادی کا ریکارڈ مارچ 2010ء میں سال کیتا نامی ایک مرد کے ساتھ ملتا ہے۔ سنہ 2002ء کا سال اس کی شادیوں کےحوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سال اس نے چھ مردوں کے ساتھ شادیاں رچائیں۔ اس کی بہت سی شادیوں کے بارے میں تفصیلات اس کے ’’فیس بک‘‘ کے اکائونٹ سے بھی ملی ہیں مگراب وہ صفحہ بند ہے۔

لیانا کی گرفتاری نیویارک شہر کی’’برونکس‘‘ کالونی سے کی گئی اور وہیں پراس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ جب اس پرمقدمہ چلا اس وقت بھی اس کے چار شوہرموجود تھے۔ دس شوہروں میں سے مصر، ترکی، بنگلہ دیش، جارجیا، مالی اورتقسیم سے قبل چیکو سلواکیا کے مرد شامل ہیں۔ ان میں سے سات اب بھی امریکا اور بعض دوسرے ملکوں میں سیکیورٹی حکام کی زیر نگرانی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیانا نے مختلف ملکوں کے مردوں کے ساتھ شادیاں رچائیں ان میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔ اگرچہ اسے2006ء میں امریکا سے بے دخل کردیا گیا تھا جو اس وقت پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے تاہم وہ ابھی خاتون کے موجودہ شہروں میں شمار کیاجاتا ہے۔

امریکی پراسیکیوٹرجنرل کےعدالت میں بیان کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ درجن بھرشوہر رکھنے والی خاتون سے شادیاں کرنے والے مرد امریکا کی مختلف ریاستوں میں آئینی طورپر مقیم رہے۔ تاہم بعض کےساتھ اس کے اختلافات طلاق پر منتج ہوئے۔ خاتون کے خلاف کثرت ازدواج کے دوسرے مقدمہ کا فیصلہ 18مئی کو سنائے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2001ء میں اس نے بنگلہ دیشی حبیب الرحمان کے ساتھ شادی کی۔ فرروی 2002ء میں ڈیوٹ کوریٹزی کے ساتھ ، اس کےایک ماہ بعد ڈوران کوکٹیپ، مارچ 2002ء میں علیا اسکندر بھاریلائو، چند ایام بعد فاختانگ دزینالدزی، جولائی میں پاکستانی نژاد رشید راجپوت اور اس سال میں اس کی آخری شادی کاخابرخوربالدزی نامی شخص کے ساتھ انجام پائی۔

کئی کئی مردوں کو ایک ساتھ اپنے شوہرکے طورپر رکھنے والی خواتین میں لینا پہلی خاتون نہیں بلکہ اس نوعیت کے کیسز دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک کیس سنہ 2007ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں سامنے آیا تھا۔ یہ ایک کیوبن خاتون کا کیس تھا۔ ایونیس لیوبیز نامی 26 سالہ خاتون نے 10 مردوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں شادیاں رچا رکھی تھیں۔ پولیس کو جب اس کی کثرت ازدواج کا پتا چلا تو اسے گرفتار کیا گیا۔ جب عدالت میں مقدمہ چلا تومعلوم ہوا کہ اس نے سنہ 2002ء سے 2006 کے دوران 18 ہزار ڈالر فی کس کے عوض کئی شادیاں کی تھیں۔ عدالت نے اسے دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ایک ماہ قبل ایران میں بھی ایک ایسی خاتون کو حراست میں لیا گیا جس نے نوسربازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 مردوں کے ساتھ خفیہ شادیاں رچا رکھی تھیں۔ایرانی دوشیزہ نکاح کے فوری بعد شوہر سے طلاق لے کراگلے گاہک کی تلاش میں نکل جاتی تھی۔ اس کے خلاف کثرت ازدواج کا نہیں بلکہ دھوکہ دہی کے تحت مقدمہ اب بھی جاری ہے۔

پچھلے سال صومالیہ میں شدت پسند تنظیم ’’الشباب الاسلامیہ‘‘ کے ہاتھوں ایک33 سالہ صفیہ احمد جمالی نامی خاتون کو سنگسار کیاگیا۔ اس پرالزام تھا کہ اس نے ایک ہی وقت میں چار مردوں سے شادیاں کر رکھی تھیں۔ اسے سرعام سنگسار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں