یمن کے بارے میں پاکستانی موقف پر یو اے ای کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج کے فیصلہ کن طوفان نامی آپریشن میں پاکستانی پارلیمنٹ کے غیر جابندار رہنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

اماراتی وزیر نے اپنے ذاتی ٹویٹر اکاونٹ پر پیغام میں پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیج عرب کے ممالک کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کو واضح کرے. اپنے ٹویٹر پیغام میں ڈاکٹر انور قرقاس کا کہنا تھا کہ "اس فیصلہ کن موقع پر متضاد اور مبہم موقف پاکستان کو مہنگا پڑے گا۔"

یو اے ای کے وزیر کا مزید کہنا تھا کہ"خلیج عربی خطرناک صورتحال سے گذر رہا ہے۔ اس کی اسٹرٹیجک سلامتی بھی خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ موقع اصل اتحادی کی پہچان کے امتحان کا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "پاکستانی پارلیمنٹ کا یمن کے بحران میں بیک وقت غیر جانبدار رہنے اور سعودی عرب کی حمایت کا اعلان غیر متوقع کھلا اور خطرناک تضاد ہے۔"

یاد رہے پاکستان کی مجلس شوری [پارلیمنٹ] نے جمعہ کے روز یمن کے صورتحال پر اپنے مشترکہ اجلاس کے اختتام پر ایک قرارداد منظور کی جس میں حکومت سے جاری تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کا کہا گیا تھا۔ قرارداد میں حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ حوثی بغاوت کے خلاف بننے والے عسکری اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کرے۔

قرارداد کے مطابق "پاکستان یمن کے بحران میں غیر جابندار رہتے ہوئے بحران کے خاتمے کے لئے سیاسی اور سفارتی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ نیز ہم مملکت سعودی عرب کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں