.

اسرائیلی اخبار کی نامہ نگار کا ایرانی حکام کو چکما

ریاض داخلے میں ناکام اسرائیلی صحافیہ کے ایران میں کھلے عام سیر سپاٹے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران ویسے تو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے موقف پر قائم ہے مگر بعض واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران کو اسرائیلیوں کی اپنے ہاں آمد ورفت پر کوئی خاص اعتراض بھی نہیں۔ چنانچہ اسرائیلی مختلف طریقوں سے ایران آتے جاتے ہیں اور ’اسرائیل دشمنوں‘ کو ان کے دوروں کی کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔

اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ان کی واشنگٹن میں بیورو چیف اورلی ازولائی نے دو ہفتوں پر محیط ایران کا دورہ کیا۔ اگرچہ اس دورے میں اورلی نے ایران کے عام شہریوں کے انٹرویو کیے مگر خاتون صحافی کو سخت گیر ایرانی معاشرے میں آزادانہ نقل و حرکت سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ یاد رہے اورلی کو آٹھ سال قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ سعودی عرب کی کوریج کے لیے ریاض حکومت نے ویزہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق خاتون صحافی ایران میں چودہ دن گذارنے کے بعد جب واپس گئی تو زیرک تہران حکام پر یہ عقدہ کھلا کہ اورلی کا تعلق اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار سے تھا۔ اس انکشاف کے بعد ایران کے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

عوامی ردعمل کے بعد ایرانی وزیر ثقافت علی جنتی کو دفاعی موقف اختیار کرنا پڑا تھا۔ علی جنتی نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی خاتون صحافی کے بارے میں اُنہیں اس وقت علم ہوا جب وہ ملک چھوڑ کر جا چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی صحافیہ دھوکہ دہی کے ذریعے ایران میں ایک سیاح کے روپ میں داخل ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک یورپی ملک کا پاسپورٹ تھا۔

عبرانی اخبار کا کہنا ہے کہ فرانسیسی اور اسرائیلی شہریت رکھنے والی ازولائی فرانسیسی پاسپورٹ پر ایران میں داخل ہوئی۔ ایران میں داخلے سے آٹھ سال قبل اس نے سعودی عرب داخلے کی بھی کوشش کی تھی مگر ریاض حکومت نے اسے ویزہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد وہ سعودی عرب داخل نہیں ہو سکی۔ تاہم ایرانی حکام نے بغیر کسی تحقیق کے اسرائیلی خاتون صحافی کو اپنی سر زمین میں داخل ہونے اور مکمل چودہ دن تک ملک کے طول وعرض میں گھومنے پھرنے کی بھی کھلی اجازت دے رکھی تھی۔

ازولائی کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں دو ہفتے گذارے۔ اس دوران وہ مختلف شہروں میں آزادی کے ساتھ گھومتی اور شہریوں کے امریکا اور اسرائیل کے بارے میں تاثرات جمع کرتی رہی۔ اس کا کہنا ہے کہ عام ایرانی شہری امریکا اور اسرائیل سے نفرت نہیں کرتے بلکہ وہ ان دونوں ملکوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔

ایرانی حکام کے متضاد بیانات

اسرائیلی خاتون صحافی کے ملک میں داخل ہونے کے حوالے سے ایرانی حکام کے متضاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر برائے ثقافت علی جنتی کا کہنا ہے کہ خاتون صحافی ایک یورپی ملک کے پاسپورٹ پر ایران میں ایک سیاح کے طور پر داخل ہوئی تھی۔ بہ طور سیاح اسے تحفظ فراہم کرنا ایرانی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ایران سے واپسی پر معلوم ہوا کہ وہ اسرائیلی اخبار کی نامہ نگار ہے۔ ایران کے بیرون ملک صحافت کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ خاتون امریکی ویزے پر ان کے ملک میں داخل ہوئی۔ یوں خود ایرانی حکام کے بیانات میں بھی کھلا تضاد پایا جاتا ہے۔

امریکی اخبار’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ازولائی سنہ 2005 ء اور 2007ء کے دوران دو مرتبہ ایران گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ایران میں سخت گیر صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت قائم تھی۔اس کے دورہ ایران سے کئی سال پیشتر اس نے سعودی عرب جانے کی بھی کوشش کی مگر اسے اجازت نہیں ملی تھی۔

ایران کے فارسی اخبار’’کیہان‘‘ کی رپورٹ کے مطابق لاورلی ازلائی ایک جعلی پاسپورٹ پر ایران میں داخل ہوئی۔ تاہم اخبار نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے اس قدر لاپرواہی کیوں کر برتی گئی کہ ایک دشمن ملک کی خاتون صحافی بغیر کسی چھان بین کے دو ہفتے تک ملک میں آزادانہ گھومتی اور شہریوں کے تاثرات نوٹ کرتی رہی۔

اخبار لکھتا ہے کہ یہ ایرانی ایمگریشن حکام کی کھلی غفلت ہے کہ اسرائیل کی ایک مشہور نامہ نگار بغیر کسی چھان بین کے ملک میں داخل ہوئی اور کئی روز تک ملک کے طول وعرض میں گھومتی رہی۔ کسی کو اس کی کانوں کان خبر تک نہ ہو سکی۔