.

محققین نے کینسر کی موبائل سے تشخیص کا آلہ تیار کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ ایک نیا آلہ تیار کیا گیا ہے جسے سمارٹ فونز کے ساتھ لگا کر کینسر کی بروقت اور سستی تشخیص کی جاسکتی ہے اور اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دور دراز علاقوں میں علاج میں بہت معاونت مل سکتی ہے۔

ڈی 3 کے نام سے پہچانے جانے والے اس 'ایڈ آن' کو طبی ماہرین کے استعمال کے لئے بنایا گیا ہے اور اسے عام عوام استعمال نہیں کرسکیں گے۔ اب تک ڈی 3 کے ٹیسٹ رزلٹ بہت درست تشخیص کررہے ہیں جبکہ اس کی قیمت بھی دوسرے ٹیسٹوں سے بہت کم ہے۔

یہ ریسرچ ایک اہم امریکی سائنس جرنل میں شائع کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے شریک مصنف ڈاکٹر سیزر کاسٹرو کا کہنا تھا "ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہمارا تعمیر کردہ یہ پلیٹ فارم بہت کم قیمت پر ضروری سہولیات فراہم کردیتا ہے۔"

تحقیق کے مطابق ڈی 3 ٹیکنالوجی میں سمارٹ فونکے ساتھ ایک بیٹری سے چلنے والی لیڈ لائٹ نصب ہوتی ہے جس سے فون کے کیمرے سے ہائی ریزولوشن کی تصاویر کھینچنا ممکن ہو جاتا ہے۔

اس عمل میں خون یا انسانی ٹشو میں مائیکرو بیڈز ڈالے جاتے ہیں۔ یہ مائیکر بیڈز کینسر سے جڑے خلیے کے ساتھ مل جاتے ہیں جن سے ان کی تشخیص آسان ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد یہ سیمپل ڈی 3 میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کی تصاویر لے لی جاتی ہیں۔

اس کے بعد اس ڈیٹا کو ایک محفوظ سروس کے ذریعے سے سرور کو بھیج دیا جاتا ہے۔ جہاں پر مائیکرو بیڈز کی تلاش کرکے کینسر کی تشخیص ہوجاتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی سے رزلٹس ڈاکٹر کو دنوں یا ہفتوں کی بجائے منٹوں اور صرف چند گھنٹوں میں پہنچائے جاسکتے ہیں۔

کینسر کی مختلف اقسام کی ابتدائی علامات کی تشخیص کے لئے اس ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے مگر ریسرچرز کا ماننا ہے کہ یہ آلہ کینسر کی تشخیص کی راہ میں حائل بہت سی رکاوٹوں کو توڑ ڈالے گا۔