محققین نے کینسر کی موبائل سے تشخیص کا آلہ تیار کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ ایک نیا آلہ تیار کیا گیا ہے جسے سمارٹ فونز کے ساتھ لگا کر کینسر کی بروقت اور سستی تشخیص کی جاسکتی ہے اور اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دور دراز علاقوں میں علاج میں بہت معاونت مل سکتی ہے۔

ڈی 3 کے نام سے پہچانے جانے والے اس 'ایڈ آن' کو طبی ماہرین کے استعمال کے لئے بنایا گیا ہے اور اسے عام عوام استعمال نہیں کرسکیں گے۔ اب تک ڈی 3 کے ٹیسٹ رزلٹ بہت درست تشخیص کررہے ہیں جبکہ اس کی قیمت بھی دوسرے ٹیسٹوں سے بہت کم ہے۔

یہ ریسرچ ایک اہم امریکی سائنس جرنل میں شائع کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے شریک مصنف ڈاکٹر سیزر کاسٹرو کا کہنا تھا "ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہمارا تعمیر کردہ یہ پلیٹ فارم بہت کم قیمت پر ضروری سہولیات فراہم کردیتا ہے۔"

تحقیق کے مطابق ڈی 3 ٹیکنالوجی میں سمارٹ فونکے ساتھ ایک بیٹری سے چلنے والی لیڈ لائٹ نصب ہوتی ہے جس سے فون کے کیمرے سے ہائی ریزولوشن کی تصاویر کھینچنا ممکن ہو جاتا ہے۔

اس عمل میں خون یا انسانی ٹشو میں مائیکرو بیڈز ڈالے جاتے ہیں۔ یہ مائیکر بیڈز کینسر سے جڑے خلیے کے ساتھ مل جاتے ہیں جن سے ان کی تشخیص آسان ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد یہ سیمپل ڈی 3 میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کی تصاویر لے لی جاتی ہیں۔

اس کے بعد اس ڈیٹا کو ایک محفوظ سروس کے ذریعے سے سرور کو بھیج دیا جاتا ہے۔ جہاں پر مائیکرو بیڈز کی تلاش کرکے کینسر کی تشخیص ہوجاتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی سے رزلٹس ڈاکٹر کو دنوں یا ہفتوں کی بجائے منٹوں اور صرف چند گھنٹوں میں پہنچائے جاسکتے ہیں۔

کینسر کی مختلف اقسام کی ابتدائی علامات کی تشخیص کے لئے اس ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے مگر ریسرچرز کا ماننا ہے کہ یہ آلہ کینسر کی تشخیص کی راہ میں حائل بہت سی رکاوٹوں کو توڑ ڈالے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں