آسٹریلوی وزیردفاع داعش کے سربراہ کو نہیں جانتے

کیون اینڈریوز انٹرویو کے دوران ابوبکر البغدادی کا نام پکارنے سے قاصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آسٹریلیا امریکا کی قیادت میں عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف جنگ میں شریک ہے لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس کے وزیردفاع داعش کے سربراہ (خلیفہ؟) کو نہیں جانتے ہیں اور وہ ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران ان کا نام پکارنے سے قاصر رہے ہیں۔

وزیردفاع کیون اینڈریوز آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران بار بار پوچھے جانے کے باوجود داعش کے سربراہ کا نام بتانے اور وہ اس حوالے سے سوالوں کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہیں بتا پائے داعش دراصل ہے کیا؟

ان سے جب اے بی سی کی انٹرویو نگار نے پوچھا:''وزیر صاحب! آپ آسٹریلوی مردوں اور خواتین کو اس مشن کے لیے بھیجنے کے ذمے دار ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ آپ دولتِ اسلامی کے لیڈر کا نام نہیں بتا پا رہے ہیں''۔

اس کے جواب میں مسٹر کیون کا کہنا تھا:''میں آپریشنل امور سے متعلق باتوں میں نہیں پڑنا چاہتا''۔اس پر انٹرویو نگار نے کہا:''میرا نہیں خیال یہ کوئی آپریشنل معاملہ ہے بلکہ میرے خیال میں تو یہ عوامی ریکارڈ کا معاملہ ہے۔ امریکا کے محکمہ خارجہ نے اس شخص کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالرز مقرر کررکھی ہے''۔

اس پر آسٹریلوی وزیردفاع کا بالاصرار کہنا تھا کہ ''داعش مختلف گروپوں کا ایک مجموعہ ہے۔اس میں صرف ایک شخص شریک نہیں ہے بلکہ مختلف لوگ شامل ہیں اور اگر ہم علاقے میں ان کی کارروائیوں کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں بالآخر ان سب کو ختم کرنا ہوگا''۔

اس کے بعد اینڈریوز صاحب نے ٹویٹر پر یہ خامہ فرسائی فرمائی ہے کہ''شخصیات پر توجہ مرکوز کرنے سے انتہا پسند تنظیموں سے درپیش خطرے کو نظرانداز کردیا جاتا ہے''۔

آسٹریلیا کے اخباری ذرائع نے وزیردفاع کو ان بصیرت افروز خیالات پر آڑے ہاتھوں لیا ہے اور لکھا ہے:''اس کا بالکل سیدھا مطلب ہے۔وزیردفاع بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ ابوبکر البغدادی کون ہے؟

مسٹر اینڈریوز نے اپنی لیے بدنامی کا سبب بننے والے اس انٹرویو سے چندے قبل ہی وزیراعظم ٹونی ایبٹ سے مل کر عراق میں مزید تین سو تیس غیر لڑاکا فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ان میں سے پہلا گروپ بدھ کو عراق کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔وہ وہاں عراقی فوجیوں کو جہادیوں کے خلاف لڑائی کے لیے تربیت دے گا۔

آسٹریلیا کی خصوصی فورسز کے قریباً ایک سو ستر اہلکار پہلے ہی عراقی فوجیوں کی تربیت میں مدد دے رہے ہیں اور اس کے ایف اے 18 لڑاکا طیارے متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں اور وہاں سے اڑ کر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں