.

مسلم خاندان کے دفاع پر آسٹریلوی خاتون کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں مسلم خاندانوں کو کئی ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ تنگ ذہنیت کے شکار ہوتے ہیں اور پر امن لوگوں کو تنگ کر کے مزا حاصل کرتے ہیں۔ ایسا ہی واقع آسٹریلیا میں دیکھنے میں آیا جب ایک مسلمان خاندان کو سڈنی پبلک ٹرین میں ایک خاتون نے شدید زد وکوب کیا مگر اسی موقع پر آسٹریلیا ہی سے تعلق رکھنے والی خاتون سٹیسی ایڈن خاتون کو ڈاںٹتے ہوئے اس کی زبان بند کروا دی۔

مسلم خاندان سے لڑنے والی خاتون نے عراق اور شام میں سرگرم انتہاپسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کی کارروائیوں کا ذکر کیا اور مسلم خاتون کو حجاب پہننے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس موقع پر 23 سالہ ایڈن نے بدلحاظ خاتون سے اپنی لڑائی کی وڈیو بناتے ہوئے اس سے کہا "اگر تمھارے پاس کوئی اچھی بات کہنے کو نہیں ہے تو اپنا منہ بند رکھو۔ وہ حجاب اس لئے پہنتی ہے تاکہ وہ اپنے جسم کو بے حیائی سے بچا سکے نہ کہ اس لئے تم جیسے لوگ یہاں بیٹھ کر اس پر تنقید کریں۔"

ایڈن نے آسٹریلوی روزنامے ڈیلی میل کو بتایا کہ انہیں اس وقت شدید غصہ آیا تھا جب اس خاتون نے تمام مسلمانوں کو داعش کا حامی قرار دے دیا تھا۔ ایڈن نے اپنی منزل سے آگے تک سفر کیا تاکہ وہ مسلمان خاندان کی حفاظت کو یقینی بناسکیں۔

آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والے گروپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں سٹیسی ایڈن کے عمل کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرے اب عوامی مقامات پربھی شروع ہوگئے ہیں۔

سڈنی پولیس اس واقعے کے عینی شاہدین سے کہا ہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوسکے۔