جب ایران نے اسرائیل کے توسط سے امریکی اسلحہ خریدا!؟

ایران گیٹ نے 'مرگ بر اسرائیل اور امریکا' کے نعروں کی حقیقت نقاب کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا نے لبنان میں اپنے شہریوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل کے راستے ایران کو اسلحہ فروخت کیا۔ ایران گیٹ المعروف ایران کونٹرا اور اس جیسے متعدد مشکوک معاملات تہران کے کھوکھلے سیاسی نعروں کی حقیقت بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہیں۔

العربیہ نے اپنے فلیگ شپ پروگرام 'مرایا' کی حالیہ قسط میں ایسے سیاسی نعروں کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔ سعودی دانشور اور پروگرام کے میزیان مشاری الذایدی کے مطابق ایران میں امریکا مخالف جذبات کو انگیخت کرنے کا سلسلہ خمینی انقلاب کے بعد شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان نعروں کا مقصد خود ساختہ خمینی انقلاب کے لئے عوامی حمایت کے حصول کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔ عرب دنیا میں ان نعروں کی حقیقت منکشف کرنے والوں کو اسرائیلی ایجنٹ کہ کر مطعون کرنا ایرانی انقلاب کے کارپردازوں کا من پشند شیوہ رہا ہے۔

'مرگ بر اسرائیل'، ' مرگ بر امریکا' اور 'امریکا شیطان بزرگ' جیسے سیاسی نعرے انقلاب ایران کے بعد ملک میں کھولی جانے والی خمینی اشتہاری کمپنی کی پیداوار ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو کھوکھلے نعروں کے سراب میں مبتلا کر کے پس پردہ اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کی ترویج کے سوا کچھ نہیں تھا۔

ایران کے خمینی انقلاب کے نام نہاد عوامی نعروں کا عرب ایڈیشن ہمیں شام میں بشار الاسد اور لبنان میں حزب کے پرچم تلے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے والوں کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خوارج کے کھوکھلے نعروں کی طرح خمینی انقلاب کی حالیہ شعبدہ بازی کی بھینٹ کئی سادہ لوح شہری چڑھ چکے ہیں، لیکن ان نعروں کی اصل حقیقت کیا ہے، اسے جاننے کے لئے 'ایران گیٹ' المعروف ایران کونٹرا سکینڈل ہی کافی ہے۔

العربیہ کے قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ اگست 1985ء میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں قید امریکیوں کی رہائی کے بدلے امریکا اور ایران کے درمیان اسلحہ فروخت کا معاہدہ کرانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کو 'ٹاو' طرز کے ٹینک شکن 3000 میزائل اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے 'ہاک' میزائل فروخت کرنا تھے۔ اسرائیل نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فروخت کردہ امریکی اسلحہ ایران پہنچائے گا۔ 5 دسمبر 1985ء کو اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے کانگریس سے چوری چھپے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے کی منظوری دی۔ 17 جنوری 1986ء کو ریگن نے امریکی خفیہ ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ ایران کو اسلحہ فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی لاطینی امریکا میں نیکارا گوا کے کونٹرا باغیوں کو منتقل کریں۔ 3 نومبر 1986ء کو لبنانی رسالے 'الشراع' نے اپنی اشاعت میں اسرائیل کے راستے ایران کو امریکی اسلحہ فروخت کا سکینڈل منکشف کر دیا۔ ایران کونٹرا سکینڈل جس دور میں منکشف ہوا، اس وقت خمینی انقلاب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور انقلاب کے عین جوبن کے وقت اس سکینڈل کا سامنے آنا ایران کے 'مرگ بر امریکا' اور 'امریکا شیطان بزرگ' جیسے نعروں کی قلعی کھولنے کے لئے کافی تھا۔

ایران اور اسرائیل کے تعاون کا پردہ انوار السادات سے لیکر دیگر عرب زعماء بھی کھولتے رہے ہیں، لیکن ایران دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں مصروف رہا کہ انہیں اصل خطرا عربوں سے ہے۔ سیاسی ضرورتوں کے مطابق موقف بدلنے والوں پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ علیہ کا یہ قول منطبق ہوتا ہے،
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں