.

فوجی راز افشا کرنے پر ڈیوڈ پیٹریاس کو 2 سال ''پروبیشن'' سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس کو فوجی راز افشا کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دے کر دو سالہ پروبیشن اور ایک لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ڈیوڈ پیٹریاس پر الزام تھا کہ انھوں نے شادی سے ماورا اپنی سوانح عمری لکھنے والی خاتون سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کیے تھے اور اس کو فوجی راز فراہم کیے تھے۔انھوں نے دو ماہ قبل عدالت میں خفیہ مواد فراہم کرنے کا اقرار کیا تھا۔

اس اقبال جرم کے بعد انھیں ایک سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی تھی۔البتہ پراسیکیوٹرز نے عدالت میں ان کے لیے دو سال پروبیشن اور چالیس ہزار ڈالرز جرمانے کی سزا تجویز کی تھی لیکن عدالت کے جج ڈیوڈ کیسلر نے جرم کی سنگینی کے پیش نظر جرمانے کی رقم بڑھا کر ایک لاکھ ڈالرز کردی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''پیٹریاس نے غیر اخلاقی کام کیا تھا اور ان کا جرم سنگین ہے''۔عدالت کے روبرو سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے اپنے مختصر بیان میں اپنے افعال سے ہونے والے نقصان پر معافی مانگ لی ہے۔پراسکیوٹر جیمز میلنڈرس کا کہنا تھا کہ ''انھوں نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا۔انھیں قوم کے خفیہ رازوں کا امین بنایا گیا تھا لیکن انھوں نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے''۔

ڈیوڈ پیٹریاس کے خلاف شارلوٹ شہر کی وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے جہاں ان کی سوانح نگار اور سابقہ محبوبہ پاؤلا براڈ ویل اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ مقیم ہے۔اس عورت کے ساتھ معاشقے نے ان کی شہرت کو داغدار کردیا تھا۔وہ امریکی فوج کے چار ستارہ جنرل رہے تھے اور انھوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کی کمان بھی کی تھی۔انھوں نے 2011ء میں پاؤلا براڈویل کو خفیہ دستاویزات کے آٹھ بنڈل دیے تھے۔تاہم بعد میں یہ واپس لے لیے تھے۔افغانستان میں خفیہ کارروائیوں اور صدر اوباما اور قومی سلامتی کونسل کے ساتھ پیٹریاس کی ملاقاتوں کی تفصیل پر مشتمل ''سیاہ کتاب'' بھی ان میں شامل تھی۔

بعد میں ایف بی آئی نے ورجینیا میں واقع ان کے مکان سے یہ تمام مواد برآمد کر لیا تھا۔ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے نومبر 2012ء میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ایک جھوٹے بیان حلفی پر بھی دستخط کیے تھے جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ اس وقت ان کے قبضے میں کوئی خفیہ دستاویزات نہیں ہیں۔