دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی 86 سالہ جنگ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی تعمیرو ترقی اور خوشحالی کے خلاف سرگرم عناصر کی جانب سے دہشت گردی کی تازہ کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسلامی دنیا کے مرکز اس ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سلسلہ ایک صدی پرمحیط ہے۔

دہشت گرد سال ہا سال سے مختلف شکلوں اور ناموں کے ساتھ ظہور پذیر ہوتے اور مملکت کی ترقی کے درپے چلے آ رہے ہیں۔ سعودی عرب میں انارکی اور پسماندگی کو فروغ دینے کے سوا ان کا اور کوئی مقصد نہیں۔

سنہ 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں سعودی عرب کو افغان پلٹ عرب جنگجوئوں سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ ان جنگجوئوں سے نمٹنا ایک بڑا اور پیچیدہ مسئلہ تھا۔ انہوں نے القاعدہ کی بنیاد رکھی اوران کا پہلا ہدف سعودی عرب بنا۔ ریاض نے القاعدہ کے چیلنج سے بھی کامیابی سے نمٹا۔

امریکی انٹیلی جنس کے سابق چیف بروس ریڈل کے مطابق سنہ 2002ء میں القاعدہ نے سعودی سماج کا شیرازہ بکھیرنے کے لیے دہشت گردی کی بدترین کارروائیاں شروع کیں۔ 12 مئی 2003ء کو سرزمین حرمین میں دہشت گردانہ حملوں میں نہتے بچوں اور خواتین سمیت 16 شہری شہید اور 160 زخمی یا اپاہج ہوئے۔ دہشت گردی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا اوراسی سال 08 نومبر کو دہشت گردوں نے ایک اور بڑا حملہ کیا۔

اگرچہ القاعدہ نے یمن کو اپنی علاقائی سرگرمیوں کا مرکز بنایا مگر اس دہشت گردوں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی سازشیں جاری رہیں۔ سعودی عرب کی بہادر مسلح افواج نے دہشت گردوں کی ہرسازش کو بری طرح ناکام بنا دیا۔

اس وقت سعودی عرب کو صرف القاعدہ سے نہیں بلکہ چاروں طرف پھیلے دشمنوں کے خطرات کا سامنا ہے لیکن سعودی عرب نہایت کامیابی کے ساتھ چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ سعودی عرب ایک ہی وقت میں یمن کے اہل تشیع مسلک کے حوثیوں باغیوں، القاعدہ اور دولت اسلامیہ’’داعش‘‘ کے سنی دہشت گردوں سے بلا تفریق نبرد آزما ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں