.

اسمارٹ فون ڈیٹا بنک سے قرض کےحصول میں معاون ثابت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنکوں اور مالیاتی فرموں سے قرض رقوم کے حصول کا رححان زور پکڑ رہا رہے وہیں ترقی پذیر اورغیر ترقی یافتہ ممالک میں قرض خواہوں کے بارے میں رقوم کی عدم ادائیگی کے حوالے سے بے اعتباری بھی موجود ہے۔ تاہم جدید موبائل فون سسٹم نے اس ضمن میں قرض خواہ اور قرض دہندہ دونوں کی معاونت بھی کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ موبائل فون کے ’’میٹا ڈیٹا‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی شخص پر قرض کی ادائی یا عدم ادائی کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے موبائل بل بروقت ادا کررہا ہے تو اس سے ظاہر ہوگا کہ وہ بنک یا مالیاتی ادارے سے لیا گیا قرض بھی لوٹانے کے معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔

چونکہ ترقی پذیر ممالک میں قرضوں کے حصول کا رُحجان زیادہ ہے۔ لوگ چھوٹی صنعت لگانے، کاروبار یا تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک سفر کرنے یا مکان اور جائیداد کی خریداری کے لیے قرض کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ ان ہی ملکوں میں قرض کے لین دین میں مشکلات بھی پیش آتی ہیں۔

اس ضمن میں بعض مالیاتی فرموں نے بھی موبائل فون کے ڈیٹا کی مدد سے کچھ تجربات کیے ہیں۔ موبائل فوج کے تصریحی بیانات یا میٹا ڈیٹا کی مدد سے صارف کے بارے میں اہم نوعیت کی معلومات حاصل ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں صارف کے انٹرنیٹ کے استعمال کی صلاحیت کو بھی جانچا جاتا ہے۔

حال ہی میں ایسا ہی ایک تجربہ ’’انٹرپرینیل فائنانس لیب‘‘ نامی ایک کمپنی نے کیا تاکہ وہ موبائل فون کے ڈیٹا کی مدد سے صارف کا اعتماد تلاش کرسکے۔

امریکا کی برائون یونیورسٹی ورسٹی کے ماہر اقتصادیات ڈینیل پیرکجرن کی معاونت سے کی گئی اس تحقیق میں تین ہزار افراد پر تجربہ کیا گیا۔ ان سب نے بنکوں سے قرض لے رکھا تھا۔ دوران تحقیق ان کی فون کال کے اوقات، کال کا دورانیہ اور کال کے اخراجات کا تجزیہ کیا گیا۔

احساس ذمہ داری

مالیاتی کمپنی ’’انٹرپرینیل فائنانس لیب‘‘ نے لوگرتھمی ریاضیاتی فارمولے کے تحت مختلف موبائل صارفین کے میٹا ڈیٹا کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس دوران یہ جانچا کیا گیا کہ آیا صارف منطقع ہونے والی کال فورا دوبارہ ڈائل کررہا ہے یا نہیں۔ کیا وہ اپنے فون کا پوسٹ پیڈ بل بروقت ادا کرتا ہے؟۔ اگران سوالوں کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو وہ ایک قابل اعتبار شخص ہے جو احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کمپنی نے کچھ ایسے موبائل صارفین کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں جو بنک کی برانچوں سے بہت دور تھے تاکہ ان کی جگہ کا تعین کرانے کی کوشش کی جاسکے۔

فائنانس لیب کے تحت کی جانے والی تحقیق کے نتائج حال ہی میں امریکی ریاست ماسی چیوسٹ کے شہر کیمبریج میں منعقدہ ’’نیٹ موب‘‘ کانفرنس میں پیش کیے گئے اور ماہرین نے انہیں قابل اعتبار قرار دیا۔

امریکی کمپنی’’سیگفنی‘‘ سے وابستہ موبائل ڈیٹا کی ماہر کیویان شو کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے موبائل کال اور رابطوں کی معلومات سے اس کے طرز عمل کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ یہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ صارف روز مرہ کی بنیاد پر رابطوں میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ بولتا ہے اوراس پرکس قدر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔

چونکہ موبائل فون صارف یا قرض حاصل کرنے سے کسی بھی وقت رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اسے قرض کی رقم کی ادائی کے حوالے سے بر وقت متنبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

معاشی طورپر کمزور افراد کے لیے مفید

ترقی پذیر ملکوں میں چونکہ قرض کا حصول ایک پیچیدہ مسئلہ رہتا ہے۔ موبائل کے ذریعے صارف کے بارے میں اہم معلومات ملنے کے بعد ایسے لوگوں کو فایدہ پہنچ سکتا ہے جو معاشی طورپر تو کمزورہیں مگر احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔

امریکی ریاست کلیفورنیا کے سانٹا مونیکا شہر میں قائم ایک کمپنی’’انونچر‘‘ نے بھی اس باب میں تجربات کی ہیں۔ کمپنی کی جانب سے موبائل صارفین کی روز مرہ کی کالوں، ان کے دورانیے اور آنے والی لاگت کا اندازہ لگایا تاکہ یہ جانچاجاسکے کہ آیا اس پراعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اس طرح اس کمپنی نے کچھ لوگوں کو قسطوں پر موبائل سیٹ فراہم کیے اور انہوں نے ان کی بروقت ادائیگی کردی تھی۔

ایسا لی لوگرتھمی فارمولے کے تحت تجربہ’’لینڈو‘‘ نامی کمپنی نے فلپائن اور کولمبیا جیسے غریب ملکوں میں کیا۔ لینڈو نے صارفین کے سوشل میڈیا اکائونٹ بالخصوص فیس بک، ٹیوٹر اور لنکڈان کے ذریعے بھی شہریوں سے رابطہ کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نےخود یا ان کے دوستوں نے قرض لیا ہے اور کیا وہ انشورینس کی رقم بروقت ادا کرتے ہیں۔ تو ان کا جواب بھی اثبات میں تھا۔ ان میں سے بعض نے موٹرسائکلیں اور موبائل فون بھی قرض پرلے رکھے تھے۔

جامعہ برائون کے ماہراقتصادیات پیر کرجرن کا کہنا ہے ترقی پذیر ممالک میں قرض کے خواہاں لوگوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ ان کے بارے میں معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے۔ موبائل فون کی مدد سے ان کے بارے میں معلومات کا حصول ایسے لوگوں کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔