.

نیپال بھونچال: مہلوکین کو 'چتا' دینے کے لیے لکڑی کم یاب

قبرستان سے محروم ملک کے مقدس دریا باگمتی کے کنارے لاشوں سے اٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیپال کے ہولناک بھونچال میں زندہ بچ جانے والے افراد اور اس سماوی آفت کا نشانہ بننے والوں کی آزمائش تیسری رات گذرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ حکام کے مطابق زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 4500 ہو چکی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لاشوں کو دریائے باگمتی کے کنارے 'چتا' دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

نیپال کی تیس ملین آبادی کی بڑی اکثریت 80 فی صد بدھ مت، 09 فی صد ہندو، 4٫4 فی صد مسلمان اور ایک فی صد عیسائی مذہب کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ 147 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر محیط نیپال میں قبرستان تقریبا معدوم ہیں کیونکہ نوے فیصد آبادی کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد جلا دینے سے تطہیر ہوتی ہے اور اس عمل کے بعد ہی روح کو دوبارہ جسم میں ڈال کر زندہ کیا جائے گا، جسے عرف عام میں 'دوسرا جنم' کہا جاتا ہے۔

مردون کو چتا دینے کا عمل مقدس سمجھے جانے والے دریا باگمتی کے کنارے ادا کیا جاتا ہے جہاں لاش کو جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہا دی جاتی ہے۔ دریائے باگمتی دارالحکومت کٹھمنڈو کی وادی کے درمیان بہتا ہے۔ یہ دریا دارالحکومت کو جنوبی نیپال کے شہر لالبتور سے جدا کرتا ہے۔

نیپال سے شائع ہونے انگریزی روزنامے 'دی ہمالیئن' کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں لاشوں کو چتا دینے کے لیے ہزاروں ٹن لکڑی کا ایندھن درکار ہے۔ ایک لاش کو چتا کرنے کے لیے قریبا 250 کلوگرام لکڑی درکار ہوتی ہے۔

حکومت نے دریائے باگمتی کے کنارے بڑی تعداد میں لکڑی پہنچانے کے لیے خصوصی ٹرک اور کشتیاں چلائی ہیں۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کی ادائی میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کے باعث دریائے باگمتی کے کنارے تعفن پھیل رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ابتدائی اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ زلزلے سے نیپال کے 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تقریباً 156 لاکھ افراد کو خوراک اور مدد کی ضرورت ہے۔