.

انسان اپنی بقاء کے لیے کسی اور سیارے پر جا بسے!

’زمین ایک ہزار سال سے زیادہ انسان کی میزبانی نہیں کرے گی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنی نوع انسان کی کائنات کی تسخیر اور نئی دنیائیں بسانے کی جستجو تو صدیوں پرانی ہے مگر حال ہی میں برطانیہ کے جسمانی طور پر مفلوج ایک معروف سائنسدان اسٹیفن ہوکنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان کے لیے ایک ہزار سال سے زیادہ اس زمین میں رہنے کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ انسان اپنی بقاء چاہتا ہے تو اسے ایک ہزارسال کے اندر اندر کوئی اور دنیا آباد کرنا ہو گی ورنہ کرہ ارض سے ابن آدم کا نام ونشان مٹ جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی طبیعات دان اسٹیفن ہوکنگ نے حال ہی میں سڈنی کے اوپرا ہائوس میں عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت انسان کو زمین پر مزید ایک ہزار سال تک رہنے کی مُہلت ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ایک ہزار سال میں کوئی نئی دنیا آباد کرتا ہے یا فناء کا انتظار کرتا ہے۔

ہوکنگ کا خیال ہے کہ یہ دنیا ایک ہزار سال سے زیادہ رہنے والی نہیں ہے۔ اس لیے وہ انسانوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک ہزارسال کے عرصے میں کسی اور سیارے پر انسانی آبادی کا انتظام کریں ورنہ کائنات سے انسان معدوم ہوجائے گا۔ ہوکنگ کے اس دعوے نے سائنسدانوں کے لیے کئی نئے سوالات پیدا کیے ہیں تاہم ابھی تک اس کے دعوے کی تائید یا مخالفت میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان اپنے پائوں کی طرف دیکھنے کے بجائے اوپر دیکھے اور نئے سیارے تلاش کرے۔

اسٹیفن ہوکنگ اس سے قبل فروری میں بھی ایسا ہی ایک بیان دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کو لا محالہ اپنی بقاء کے لیے ایک نئی دنیا آباد کرنا ہوگی کیونکہ یہ زمین اب زیادہ عرصے تک اس کی میزبانی نہیں کرے گی۔

زمین پر انسانی وجود کی مدت

آج تک سائنسدان زمین پرانسان کے وجود کی مدت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں اور مفروضے قائم کرتے آئے ہیں۔ اس بات پر سائنسدانوں کا اتفاق ہے کہ زمین کی اپنی عمر 4.54 ارب سال ہے۔ لیکن انسان کا وجود زمین کے روز آفرینش سے نہیں ہے۔ زمین پر انسان کے وجود اوراس کی مدت کے حوالے سے دو آراء موجود ہیں۔ ایک یہ کہ انسان 8 ہزار سال قبل مسیح اس زمیں پر وجود میں آیا۔

دوسری رائے میں پانچ ہزار سال قبل مسیح انسان کا ظہورہوا۔ اس اعتبار سے ہوکنگ کے نظریے پر یقین کیا جائے تو زمین پر انسان کی میزبانی کا عرصہ آٹھ سے گیارہ ہزار سال بنتا ہے۔ اس میں ہوکنگ کی ایک ہزار سال کی وہ مدت بھی شامل ہے جو وہ مزید انسان کو زمین پر رہنے کے لیے دیتا ہے۔

امیجنگ کے لیےعجیب ٹکنالوجی کا استعمال

اسٹیفن ہوکنگ کیمبرج یونیورسٹی میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر تجربات کرتے ہیں۔ انہوں نے وہیں سے خطاب بھی کیا لیکن اپنے نظریے کے ثبوت اور امیجنگ کے لیے ’’ھولو گرافی‘‘کا تصویری طریقہ استعمال کیا۔ ہولوگرام ۔ ایک تین ڈایا مینشن والا امیج ریکارڈ ہے جو ہولوگرافی سے تخلیق کیا جاتا ہے۔ ہولو گرام روشنی کی مداخلت والے ایسے پیٹرن پر مشتمل ہوتا ہے جو فوٹو گراف فلم جیسے میڈیم پرمحفوظ ہوتے ہیں۔

یہ لیزر شعاعوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پھر ایک لیزر کو اپنی مطلوبہ چیز کی تصویر پر ڈالتا ہے اور اسے بننے والی فلم یا تصویر سے جو خاکہ بنتا ہے اسے ہولوگرام کہا جاتا ہے۔ اس ٹکنالوجی کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ یہ ہولوگرام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرتی ہے اور یہی ٹکڑے مل کرآپ کی مطلوبہ تصویر بناتے ہیں۔

جسمانی طور پر معذور سائنسدان

اسٹیفن ہوکنگ اکیس سال کی عمر میں انوکھی اعصابی بیماری کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں وہ جسمانی طور پر حرکت کرنے اور بات چیت کی صلاحیت سے بھی محروم ہوگئے۔ اس وقت ڈاکٹروں نے ان کے زیادہ سے زیادہ دو سال تک زندہ رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔ اس وقت ہوکنگ کی عمر 70 سال سے زاید ہے۔ انٹل کمپنی نے ان کے لیے ایک مخصوص وہیل چیئر تیار کی ہے، جسے وہ اپنے ہاتھ یا پائوں سے نہیں بلکہ الیکٹرانک آواز کے ذریعے حرکت دیتے ہیں۔