.

اسرائیل مخالف مہم کا دبائو، امریکی گلوکارہ کا دورہ تل ابیب منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی گلوکارہ لورین ہل کا کہنا ہے کہ انہیں فلسطینی علاقوں میں کنسرٹ کرنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے اسرائیل کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

سابقہ طور پر 'فیوجیز' نامی بینڈ سے تعلق رکھنے والی لورین نے جمعرات کے روز تل ابیب میں ایک مقام پر کنسرٹ کرنا تھا مگر انہیں سوشل میڈیا پر موجود سماجی کارکنوں کی جانب سے شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑا جو فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی تسلط کی وجہ سے ان کو تل ابیب آنے سے روک رہے تھے۔

گلوکارہ کے مطابق وہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں اپنا دوسرا کنسرٹ کرنا چاہ رہی تھی مگر اس کے لئے کوئی بات نہ بن سکی۔

انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں بتایا کہ "میری بہت خواہش تھی کہ میں دنیا کے اس حصے میں لائیو پرفارمنس کروں مگر میں انصاف اور امن کے تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتی ہوں۔ میرے لئے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ میری موجودگی یا میرے پیغام کو غلط مطلب میں سمجھا جائے یا اس سے میرے اسرائیلی یا فلسطینی شائقین کی دل آزاری ہو۔"

ہل کا کہنا تھا کہ وہ اس خطے میں موجود تمام شائقین کے سامنے اپنی دھنیں پیش کرنے کے لئے کوئی مختلف حکمت عملی اپنائیں گی۔

سماجی کارکنان نے گلوکارہ کو ان کے ہی ایک گانے “Killing Me Softly” کے الفاظ سے اسرائیلی پالیسیوں کو بیان کرتے ہوئے انہیں تل ابیب آنے سے روکا تھا۔

اسرائیل کو اس سے پہلے بھی کئی فنکاروں، ماہرین تعلیم اور گلوکاروں کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں راجر واٹرز اور برائن اینو شامل ہیں۔ ان فنکاروں اور ماہرین تعلیم کو امید تھی کہ ان کے اس بائیکاٹ کی وجہ سے اسرائیلی پالیسیوں میں تبدیلی آئے گی اور فلسطینیوں سے برابری کا سلوک روا رکھیں گے۔

مگر اسرائیل کے حامیوں نے اس مہم کا مقابلہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور انہوں نے کئی دیگر فنکاروں کو اسرائیل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے مدعو کیا ہے۔ ان فنکاروں میں پال میکارٹنی اور ایلٹن جان قابل ذکر ہیں۔