.

لبنانی دوشیزہ عرب دنیا کی ’فربہ ملکہ حسن منتخب‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملکہ حُسن کے مقابلے کی فاتح کا ذکر آتے ہی ذہن میں کسی نازک اندام دوشیزہ کا خیال آتا ہے، تاہم لبنان میں فربہ خواتین کے لئے منعقد ہونے والے 'مقابلہ حسن' کے بعد یہ بات ضروری نہیں رہی کہ حسینہ صرف سمارٹ دوشیزہ ہی ہو سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس وقت عرب ممالک کے حسن کی نگاہیں 23 سالہ لبنانی دوشیزہ سیرینا الشعار پر مرکوز ہیں جنہوں نے عرب ملکوں کی سطح پر اس سال ’فربہ ملکہ حسن‘ کے مقابلے میں میدان مار کر 'تاج' اپنے نام کیا ہے۔ آخری مقابلے میں مختلف عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والی 11 دوشیزائوں نے حصہ لیا۔

'فربہ ملکہ حُسن' منتخب ہونے والی سیرینا الشعار اسکولوں میں زیر تعلیم موٹاپے کا شکار بچوں کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ وہ خود بھی اپنے بھاری بھرکم جسم کے باعث طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

بیروت میں منعقدہ مقابلہ حسن میں سیرینا الشعار نے’فربہ ملکہ حسن‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ ان کے سر پر ملکہ کا تاج سنہ 2014ء میں منتخب ہونے والی ملکہ حسن جیسیکا صہیون نے سجایا۔ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی فربہ دوشیزائوں کا تعلق بھی لبنان ہی سے بتایا جاتا ہے۔ مقابلے میں الیسیا شامات دوسرے اور نادین غاوی تیسرے نمبر پر رہیں۔

ملکہ حسن منتخب ہونے کے بعد سیرینا الشعار کا کہنا تھا کہ ’میں اب نئی نسل کے موٹاپے کے شکار بچوں کے لیے کام کروں گی۔ ان کے حوصلے بڑھائوں گی اورانہیں بتائوں گی کہ وہ ہمیت نہ ہاریں بلکہ میری طرح مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ خود اعتمادی کا مظاہرہ کریں، وہ ہر مشکل کو آسان بنا سکتے ہیں‘۔

الشعار کا کہنا تھا کہ میں بھی بہت چھوٹی عمر میں موٹاپے کا شکار ہوئی تاہم میں نے اپنے اہل خانہ کو ہیمشہ اپنا معاون اور مدد گار پایا۔ والدین ہی موٹاپے کا شکار اپنے بچوں کے لیے سہارا بن سکتے ہیں اور ایسا ماحول فراہم کرسکتے ہیں جس سے ان کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں ورنہ بچے نفسیاتی دبائو اور ڈیپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سیرینا شعار بیروت میں الیکٹرانک میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ واسبتہ ہے۔ وہ صحافت کے علاوہ موسیقی اور دستکاری میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ ‘’فربہ ملکہ حسن‘ کے عرب ممالک کی سطح پر ہونے والے مقابلے میں لبنان، مصر، تیونس اور مراکش سمیت کئی دوسرے ملکوں کی 12 دوشیزائوں نے حصہ لیا۔

جیوری میں عرب خاتون شاعرہ جمانہ حداد، ایک عرب این جی او کی خاتون سربراہ فاطمہ بارکر اور اداکارہ کارمن لبس شامل تھیں۔ تقریب کی عکاسی جان کلوڈ بجانی نے کی۔ کے پہلے مرحلے میں 08 دو شیزائوں کے درمیان پیراکی کے لباس میں مقابلہ ہوا جبکہ دوسرے اور آخری مرحلے میں عروسی لباس میں مقابلہ حسن منعقد کیا گیا۔