.

فلسطینی مائیں ذبح کے قابل ہیں: اسرائیلی وزیر انصاف

نتین یاہو کی کابینہ میں عراقی نژاد یہودیہ وزیر انصاف بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت نظریات کے حامل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنی نئی کابینہ تشکیل دی ہے جو اُن ہی کے ہم خیال ارکان پارلیمنٹ [نیسٹ] اور انتہا پسند جماعتوں پر مشتمل ہے۔ نیتن یاھو کی کابینہ میں ایک عراقی نژاد ایسی خاتون وزیر بھی شامل ہیں جس کی اصل شہرت فلسطینیوں کے خلاف نفرت کے سوا اور کچھ نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق نیتن یاھو کی مخلوط کابینہ میں شامل خاتون وزیر آئیلٹ شیکڈ عراقی الاصل یہودیہ ہیں اور ان کا تعلق دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت 'جیوش ہوم' سے ہے۔

نو ماہ قبل آئیلٹ شیکڈ کا ایک متنازعہ بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے موقف اختیار تھا: ’’فلسطینیوں کی مائوں کو ذبح کر دیا جائے کیونکہ وہ جنگجو جنم دیتی ہیں‘‘۔ انہوں نے فلسطینیوں کو ’سانپ‘ اور ’دہشت گرد‘ تک کہنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ اس وقت موصوفہ اگرچہ وزیر نہیں تھیں مگر اب تو وہ بر سر اقتدار ہیں۔

فلسطینیوں کی دشمن خاتون عراقی نژاد وزیرہ کا اصل نام آئیلٹ شائول ہے لیکن اس کی شہرت اصل نام کے بجائے عرفی نام آئیلٹ شیکڈ ہے جو سنہ 1976ء میں تل ابیب میں پیدا ہوئی۔ آئیلٹ اسرائیل کے ان انتہا پسند یہودیوں میں شمار ہوتی ہیں جو فلسطینیوں کی بستیوں کو تاراج کرنے کی پر زور حامی سمجھی جاتی ہیں۔

گذشتہ برس جولائی اور اگست میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ کے وقت اس نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا تھا کہ ’’جملہ فلسطینی قوم اسرائیل کی دشمن ہے۔ ان میں کوئی اعتدال پسند یا لبرل نہیں۔ یہ سب ہٹلری صفات کے حامل لوگ ہیں۔ ان کی مائوں کو قتل کر دیا جانا چاہیے کیونکہ وہ جنگجووں کو جنم دیتی ہیں، ایسے جنگجو جو سانپ بھی ہیں‘‘۔

آئیلٹ شیکڈ کو اب ایک وزیر کا منصب ملا ہے لیکن وہ ماضی میں بھی کسی نہ کسی شکل میں نیتن یاھو کے قریب رہی ہیں۔ سنہ 2006ء اور 2008ء کے دوران آئیلٹ شیکڈ وزیر اعظم نیتن یاھو کے دفتر کی پرنسپل سیکرٹری رہ چکی ہیں۔

پچھلے سال مغربی کنارے سے تین یہودی آباد کاروں کے اغواء اور پراسرار طریقے سے قتل کے بعد موصوفہ کو یہودیوں کے حوالے سے سخت جذباتی دیکھا گیا۔ ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کے اغواء اور زندہ جلا کر شہید کیے جانے سے ایک روز قبل آئیلٹ شیکڈ نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو آگ میں جھونک دیا جانا چاہیے، اس وقت تک زندہ جلایا جائے جب تک ان کی سانس باقی ہے۔ اس بیان کے اگلے روز انتہا پسند یہودیوں نے ایک فلسطینی بچے کو اغواء کیا اور ایک ویران جگہ لے جا کر زندہ جلا ڈالا تھا۔

کمانڈو فوجی یونٹ کی سابق ٹرینر

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو فلسطینیوں کی دشمن سمجھی جانے والی انتہا پسند عراقی نژاد یہودی خاتون وزیرہ کے بارے میں مزید معلومات انٹرنیٹ سے ملی ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں بھی ایلیت چاکید کی مختصر پروفائل شائع کی گئی ہے۔

آئیلٹ شیکڈ ایک طرف سیکولر نظریات رکھتی ہے لیکن وہ جرمنی کے نازیوں سے زیادہ اپنے مخالفین سے کم نفرت بھی نہیں کرتی۔ اسے وزارت انصاف کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ شوہر فوج میں پائلٹ ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔ آئیلٹ شیکڈ نے تل ابیب یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینیرنگ اور کمپیوٹرسائنس میں گریجوایشن کی جس کے بعد فوج کے مشہور کمانڈو یونٹ ’’گولانی‘‘ کی پیادہ بٹالین میں بہ طور ٹرینر بھی خدمات انجام دیں۔ فوج میں خدمات ہی کے دور سے آئیلٹ شیکڈ کو فلسطینیوں کو سخت دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اس نے ہمیشہ فلسطینیوں سے امن معاہدوں اور آزاد فلسطینی ریاست کی مخالفت کی۔

سنہ 2010ء اور 2012ء کے دوران اس نے ’’یسرائیلی شیلی’’ کے نام سے پارلیمانی محاذ بھی قائم کیا۔ اس فورم میں اس کی معیت 'جیوش ہوم' کے موجودہ سربراہ نفتالی بینٹ نے بھی معاونت کی اور فلسطینیوں کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے آئیلٹ شیکڈ کے انگریزی زبان میں بنے ’’فیس بک‘‘ صفحے کا بھی مطالعہ کیا۔ اس صفحے پر اس نے شدت پسند خیالات رکھنے والی خاتون کالم نگار اوری ایلیٹزور کے مضامین بھی پوسٹ کر رکھے ہیں۔ اسے ان مضامین میں فلسطینیوں کے بارے میں ظاہر کیے گئے خیالات سے اتفاق ہے۔ اس نے سنہ 2000ء میں فلسطینیوں کی زمین پر جابرانہ قبضے کی تحریک بھی کھل کر حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے میں کوئی حرج نہیں چاہے یہ عالمی قانون کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہو۔ یہودیوں کو قبضے کاحق حاصل ہے‘‘۔

آئیلٹ شیکڈ کے والد ایک عراقی نژاد یہودی تھے جو سنہ 1950ء کے عشرے میں ایران کے راستے اسرائیل منتقل ہوئے اور بہ طور اکائونٹنٹ کام کیا۔ والدہ یہودی مذہبی گروپ اشکنزئی سے تعلق رکھتی تھیں جو یہودیوں کو تورات کے درس بھی دیتی رہیں۔ آئیلٹ شیکڈ کے خاندان کے بارے میں یہ تمام معلومات اس کے فیس بک اکائونٹ سے ملی ہیں تاہم والد اور والدہ کے نام اور تصاویر حاصل نہیں ہو سکیں۔