ایتھنز میں مسلمانوں کی پہلی مسجد کی کوشش سبوتاژ

مسجد کی تعمیرکی حمایت اور مخالفت میں حکومتی اتحاد تقسیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یونان کی پارلیمنٹ میں دارالحکومت ایتھنز میں مسجد کی تعمیر کی حمایت میں رائے شماری کے موقع پر حکومتی اتحاد میں سخت اختلافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں مسلمانوں کی پہلی مسجد کی تعمیرکے لیے جاری مساعی ایک بارپھر تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز یونانی پارلیمنٹ میں ملک کی پہلی مسجد کی تعمیر کی خاطر سرکاری سطح پر فنڈزجاری کرنے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ بل پر رائے شماری کے دوران دائیں بازو کی ’’سیریزا‘‘ پارٹی کے ارکان نے مسجد کی تعمیر کی حمایت کی جب کہ ’‘یونان انڈی پینڈنٹ‘‘ اور اپوزیشن جماعت ’’گولڈن ڈان‘‘، نیوڈیموکریٹک پارٹی اور سوشلسٹ قوم پرست ’باسوک‘ پارٹیوں نے ترمیمی بل کی کھل کرمخالفت کی۔

یونان انڈی پنڈنٹ پارٹی اور ’’گولڈن ڈان‘‘ کو نازیوں کی حامی جماعتیں خیال کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ماضی میں مسلمانوں کے لیے الگ مسجد کی تعمیر کی سخت خلاف رہی ہیں ۔

انڈی پینڈنٹ پارٹی کی خاتون رکن اسٹافرو لایولیڈو کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا ملک پہلے مالی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے حالات میں مسجد کی تعمیر جیسے ’غیرمنافع‘ بخش منصوبے کے لیے فنڈز جاری کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حکومت کو مساجد کی تعمیر کے بجائے کسی دوسرے نفع بخش شعبے میں فنڈز جاری کرنے چاہئیں‘‘۔

خیال رہے کہ یونان میں مسجد کی تعمیر کا معاملہ نومبر2013ء سے الجھا ہوا ہے۔ حکومت میں شامل سوشلسٹ اور دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں مسجد کی تعمیر کی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہیں۔

یونان میں مسلمانوں کی آبادی تین لاکھ سے زیادہ ہے لیکن حکومت آج تک وہاں پر ایک مسجد کی تعمیر کی اجازت بھی نہیں دے سکی ہے۔ یہ پہلی مسجد ہے جس کی تعمیر کے لیے وہاں کی مقامی مسلمان آبادی نے کوششیں شروع کی ہیں۔ ایتھنز میں مسجد کی تعمیر کا پہلا منصوبہ سنہ 2000ء میں اولمپک گیموں کے موقع پر پیش کیا گیا مگر اسے سنہ 2004ء میں آرتھوڈوکس چرچ کے مطالبےپر التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔

ایتھنز میں غیرملکی مسلمان تارکین وطن میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی موجود ہے جن کے پاس با جماعت نماز کے لیے مسجد نہیں۔ وہ تہ خانوں میں جمع ہوکرنماز جمعہ ادا کرنے پرمجبور ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد اور عبادت گاہوں کی مخالف بعض جماعتیں مسلمانوں کو تہ خانوں میں بھی اجتماعی عبادت سے روکنے کے لیے حملے کرتی رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں