.

مسجد نبوی کے پیش امام پر 'حملے' کی حقیقت کیا ہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد نبوی کے امام الشیخ عبدالرحمان الحذیفی پر نماز کے دوران ایک شخص کے 'حملے' سے متعلق ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ کسی مقتدی نے امام مسجد کو حملے کا نشانہ بنایا ہے.

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مسجد نبوی کے متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا ہے مسجد کے پیش امام الشیخ عبدالرحمان الحذیفی کو حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ نماز فجر میں ان کی قرآت سے متاثر ہو کر ان کے ایک مقتدی کی چیخ نکل گئی تھی۔ بعد ازاں اس شخص کو مسجد سے نکال دیا گیا تھا۔

مسجد نبوی ڈائریکٹر تعلقات عامہ عبدالواحد الحطاب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الشیخ الحذیفی پرحملے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر جس فوٹیج کو امام مسجد پر حملے کے معنی میں لیا گیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مریض شخص کی حرکت تھی جس نے تلاوت سے متاثر ہو کر الشیخ عبدالرحمان الحذیفی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی اور چیخ ماری۔ لوگ یہ سمجھے کہ شاید امام صاحب پر حملہ ہوا ہے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔