.

غربِ اردن :فلسطینیوں پراسرائیلی بسوں میں سفر پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک متنازعہ اقدام کے تحت غربِ اردن سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کے ساتھ بسوں میں سفر کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

غرب اردن سے کام کے لیے اسرائیل جانے والے فلسطینی ان بسوں پر سوار ہوتے تھے لیکن اسرائیلی وزارت دفاع نے بدھ سے تین ماہ کے لیے ایک پائیلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کے تحت اب فلسطینی آبادکار یہودیوں کے ساتھ بسوں میں سوار ہوکر اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپس نہیں آ سکیں گے۔

مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں فلسطینی روزانہ کام کے لیے اسرائیلی علاقوں کی جانب جاتے ہیں۔ان میں زیادہ تر تعمیراتی کام کرتے ہیں اور انھیں سرحدی گذرگاہوں سے گذرنے کے لیے ہر مرتبہ اسرائیلی حکام سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اب ان فلسطینی ورکروں کو سرحدی گذرگاہوں پر اتار دیا جائے گا اور وہ کراسنگ کے بعد یہودی آبادکاروں کی بسوں میں سوار نہیں ہوسکیں گے بلکہ انھیں دوسری بسوں پر سوار ہونا پڑے گا۔

اسرائیل کے سرکاری ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ وزیردفاع موشے یعلون نے اس پابندی سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینیوں اور صہیونی ریاست سے واپس جانے والوں کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح سکیورٹی خطرات بھی کم ہوں گے۔

واضح رہے کہ غرب اردن میں فلسطینیوں کی ہتھیائی گئی زمینوں پر بیرون ممالک سے لا کر بسائے گئے یہودی آباد کار ایک عرصے سے فلسطینیوں پر سرکاری ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی موجودگی سکیورٹی خطرات کا موجب ہوتی ہے۔