.

داعش میں کورین آمر کی روح حلول کر آئی

کورین آر پی جی راکٹ سے شامی شہری قتل کر ڈالا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل شمالی کوریا کے آمر صدر نے اپنے وزیر دفاع کو محض اس جرم میں توپ کا گولہ مار کر موت سے ہمکنار کروا دیا کہ وہ ایک سرکاری تقریب میں صدر کے خطاب کے دوران اونگھ رہا تھا۔

اس سنگین سزا پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بہت واویلا کیا مگر قتل کے اس طریقہ واردات میں شمالی کوریا تنہا بدنام نہیں ہو گا کیوں کہ بم مار قتل کرنے کی روایت اب شام اور عراق میں اسلام کے نفاذ کی دعویدار دولت اسلامی"داعش" بھی اپنا لی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں شمالی شام کے دیر الزور شہر میں داعشی جنگجوئوں نے ایک مقامی شہری کو پکڑا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھنے کے بعد لوگوں کا مجمع جمع کیا۔ اس کے بعد ان سب کے سامنے راکٹ لانچر سے چلایا جانے والے گرینیڈ راکٹ داغ کر نہتے شخص کے پڑخچے اڑا دیے۔ خیال رہے کہ داعشی جنگجوئوں اور شامی شہری آر پی جی راکٹوں کو "البازوکا" کے نام سے جانتے ہیں۔

ایک داعشی جنگجو نے شامی شہری کو راکٹ حملے میں قتل کرنے کے دلخراش واقعے کی ویڈیو بھی بنائی جسے بعد ازاں ویڈیو شیرنگ ویب سائٹ "یو ٹیوب" پربھی پوسٹ کیا گیا ہے۔ شام میں داعش کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی کوریج کرنے والی ویب سائٹ "رقہ میں خاموش قتل عام" نے اس واقعے کی مزید تفصیل بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ داعش نے جس شامی نوجوان کو "البازوکا" راکٹ مار کر قتل کیا اس کی شناخت ابراہیم الشریدہ کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق دیر الزور کے "الشعیطات" قبیلے سے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "داعش" کی جانب سے ماضی میں سخت ترین سزائیں دی جاتی رہی ہیں لیکن پہلی بار کسی شخص کو درخت سے باندھ کر راکٹ مارا کر قتل کیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ داعش شمالی کوریا کے آمر صدر سے متاثر ہوئی ہے اور سزا کا یہ طریقہ واردات شمالی کوریا سے مستعار لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقتول الشریدہ کوئی بڑی عمر کا جنگجو بھی نہیں لگتا۔ اس کی عمر بیس سال کے لگ بھگ ہے اور اس کا آبائی تعلق دیر الزور کے "ابو حمام" قصبے سے ہے۔ داعشی جنگجوئوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ مقتول الشریدہ نے "آر پی جی "راکٹ حملے میں داعش میں شامل دو سگے بھائیوں کو قتل کیا تھا۔ تاہم داعشی جنگجوئوں کے اس دعویٰ کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

قاتلوں کی شناخت

"رقہ میں خاموش قتل عام" نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق شامی نوجوان ابراہیم الشریدہ کو راکٹ مار کرقتل کرنے والے داعشی جنگجوئوں کی شناخت بھی ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق تیونس اور دوسرے کا مراکش سے بتایا جاتا ہے۔ ان دونوں نے الشریدہ کو پکڑا اور کھلے میدان میں ایک درخت کے تنے کے ساتھ اس اسے باندھ دیا۔ اس کے بعد اعلان کر کے بہت سے لوگوں کو جمع کیا گیا۔ ان کے سامنے ایک جنگجو نے "آر پی جی" راکٹ اٹھایا۔ ایک نے نعرہ تکبیر لگایا اور دوسرے نے دولت اسلامی زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہی راکٹ الشریدہ پر داغ ڈالا۔

رپورٹ کے مطابق شریدہ کو راکٹ مارنےوالے جنگجو کا نام Lavdrim Muhaxheri بتایا جاتا ہے جس کے پاس کوسوو کی شہریت بھی ہے۔ اس کی تصویر پہلے اس وقت منظر عام پر آئی تھی جب اس نے تنظیم کے بعض دوسرے جنگجوئوں کی موجودگی میں اپنا پاسپورٹ پھاڑ ڈالا تھا۔

الرقہ اور دیر الزور میں داعش کے ہاتھوں حالیہ دنوں میں 21 دیگر افراد کو بھی قتل کیا گیا۔ ان میں سے بعض کو اونچی عمارتوں کی چھتوں سے نیچے پھینکا گیا۔ بعض کو گولیاں ماری گئیں اور کچھ کو تلوار سے ذبح کیا گیا، یا پھانسی دی گئی۔

داعش نے دیر الزور گورنری کے البوکمال شہر میں شامی ہلال احمر کے زیر انتظام ایک ڈسپنسری بند کر دی۔ اس شہر میں مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کا یہ واحد مرکز تھا۔ اس کے علاوہ المیادین شہر میں السعید اسپتال پر بھی داعش نے قبضہ کر لیا اور اس کے مالک کو "مرتد" قرار دے وہاں سے نکال دیا گیا۔ الخریطہ قصبے میں تین خاندانوں کی املاک ضبط کر لی گئیں۔ ایک اور مکان کو یہ کہہ کر قبضے میں لیا گیا کہ اس کا مالک کویتی فوج میں کام کرتا ہے۔ المیادین میں ایک ہوٹل کو خراب گوشت پکانے الزم میں بم دھماکے سے اڑایا دیا گیا۔